کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 237
ساتھ مضبوط کیے ہوئے ہوں یا پوری بتیسی ہو اور اسے اتارا نہ جاتا ہو، سوائے کبھی کبھار کے، جبکہ دوسری صورت ان دانتوں کی ہے، جو حسبِ ضرورت لگائے اور اتارے جاتے ہیں اور انھیں اتارنا اور لگانا آسان بھی ہوتا ہے، بلکہ بعض لوگ اپنی زبان کے دباؤ سے انھیں ہلاتے بھی رہتے ہیں۔ ایسے دانتوں کی حیثیت ایک زائد چیز کی ہوگی، یعنی ایسے مصنوعی دانت کی شکل میں غسل اسی وقت درست ہوگا، جب اس کے نیچے کی جگہ تک پانی پہنچ جائے۔ یہ کوئی مشکل بھی نہیں ہوتا کہ زبان کے معمولی دباؤ سے انھیں ڈھیلا کرلینے سے اصل جسم تک پانی پہنچ جائے گا اور ایسا ہی وضو کرتے وقت بھی کر لیں۔[1] مصنوعی اعضا کے وضو کا حکم: چھے مسائل میں سے دوسرا مسئلہ یہ ذکر کیا گیا تھا کہ اگر کسی کے دیگر اعضا میں سے کوئی عضو مصنوعی ہو تو اس سلسلے میں بھی احکامِ وضو اور طریقہ وہی ہوگا، جو مصنوعی دانتوں کے سلسلے میں ذکر ہوا ہے، یعنی اگر عضو کی بناوٹ اس نوعیت کی ہوکہ جرّاحی یا آپریشن کے بغیر اسے الگ کرنا ممکن نہ ہو تو اس کی حیثیت اصل عضو ہی کی ہوگی۔ اگر وہ عضو اعضاے وضو میں سے ہو تو اُسے دھونا واجب ہوگا اور غسل میں بھی اس پر پانی پہنچانا واجب ہوگا، لیکن اگر اس کی بناوٹ اور نوعیت ایسی ہو کہ وہ آسانی سے علاحدہ کیا جا سکتا ہو تو غسل کے وقت، اسی طرح اگر وہ اعضاے وضو میں سے ہو تو وضو کرتے وقت، اس عضو کو الگ کرکے یا ڈھیلا کرکے جِسم کے اصل حصّے پر پانی پہنچانا ضروری ہوگا۔ جو اعضا آسانی سے الگ ہو سکتے ہیں، انھیں تو الگ کرنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی، بلکہ خود بہ خود ان کے نیچے پانی گھس جاتا ہے، البتہ بہ وقتِ غسل و وضو معمولی توجّہ سے بطورِ خاص اس کے نیچے پانی پہنچا لینا کافی ہوگا اور یہ کوئی دِقّت طلب امر بھی نہیں ہوگا، بلکہ یہی سمجھیںگے کہ جس طرح انگوٹھی، کنگن یا چوڑیوں کے ذرا تنگ ہونے کی شکل میں ہوتا ہے، وہی معاملہ یہاں بھی ہوگا اور جیسے انھیں معمولی حرکت دے لینے سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے، ویسے یہاں بھی ہو جائے گا۔[2] پلاسٹر پر مسح: اگر بالفرض کِسی مجبوری کی وجہ سے کسی کے ہاتھ یا پاؤں وغیرہ پر پلاسٹر لگا ہوا ہو، تو غسل یا وضو [1] جدید فقہی مسائل (ص: ۱۹، ۲۰) [2] جدید فقہی مسائل (ص: ۲۰)