کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 235
2۔ دوسرا مسند بعض وجوہات کی بنا پر مردوں کے ساتھ خاص ہے اور وہ ہے: وضو سے فارغ ہو کر شرم گاہ پر پانی کا چھینٹا مارنا۔ 3۔ تیسرا بھی سب کے لیے برابر ہے اور وہ ہے: وضو مکمل کرنے کی دعا کرنا۔ ان تینوں امور کی تفصیل و وجوہات اور دلائل کو سرِدست ہم موخر کر رہے ہیں، تاکہ وضو ہی سے تعلق رکھنے والے بعض دیگر اُمور کا تذکرہ پہلے کرلیں، جو عام حالات سے تو تعلق نہیں رکھتے، البتہ بعض حالات میں ان کی ضرورت پیش آجاتی ہے، مثلاً: 1۔ کسی کے دانت مصنوعی ہوں، تو ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ 2۔ کسی کے بعض دیگر اعضا میں سے کوئی عضو مصنوعی ہو تو اس وقت اس کے وضو کی کیا صورت ہوگی؟ 3۔ ہاتھ پاؤں وغیرہ پر بوجہ مجبوری پلاسٹر لگایا گیا ہو تو وضو کیسے ہو گا؟ 4۔ اعضاے وضو میں سے کسی پر ’’ڈامر‘‘ لگا ہو تو وضو کی کیفیت کیا ہوگی؟ 5۔ اگر کسی مرد یا عورت نے وِگ لگا رکھی ہو تو سر کے مسح کا طریقہ کیا ہو گا؟ 6۔ موسمِ سرما میں سردی سے بچنے کے لیے یا ویسے ہی کسی نے چمڑے کے موزے ایسے ہی اون، فوم، کاٹن یا نائیلون کی جرابیں پہن رکھی ہوں، تو وہ کیسی ہونی چاہییں اور ان کی موجودگی میں مسح کے احکام و مسائل کیا ہیں؟ ان چھے مسائل کے بعد ہم مذکورہ تین امور ذکر کریں گے اور پھر ان کے ساتھ ہی مسائلِ وضو مکمل ہو جائیں گے۔ (ان شاء اللہ)