کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 230
(( مَنْ تَوَضّأ وَمَسَح بِیَدَیْہِ عُنُقَہٗ، وُقِیَ الغُلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ )) [1] ’’جس شخص نے وضو کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی گردن کا مسح کیا تو وہ قیامت کے دن طوق سے بچ جائے گا۔‘‘ ابن عمر رضی اللہ عنہما والی اس روایت کو ملا علی قاری نے موضوعات میں مسند الفردوس دیلمی کی طرف منسوب کر تے ہوئے ضعیف قرار دیا ہے۔[2] غرض کہ اس موضوع کی یہ پانچ روایتیں ہیں اور پانچوں ہی من گھڑت یا ضعیف ہیں۔ چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ’’زاد المعاد‘‘ میں سچ ہی کہا ہے: ’’وَلَمْ یَصِحَّ عَنْہُ (ﷺ) فِيْ مَسْحِ الْعُنُقِ حَدِیْثٌ الْبَتَّۃ‘‘[3] ’’نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گردن کے مسح کے بارے میں کوئی بھی صحیح حدیث نہیں ملتی۔‘‘ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کے استاد اور معروف مجدد و مصلح شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے گردن کے مسح کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے جو فتویٰ دیا، وہ ان کے مجموع الفتاویٰ (۲۱/ ۱۲۷۔ ۱۲۸) میں مذکور ہے، جس میں موصوف فرماتے ہیں: ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صحیح حدیث نہیں ملتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دورانِ وضو گردن کا مسح کیا ہو اور نہ کسی صحیح حدیث (روایت) میں یہ بات مذکور ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسنون وضو کا طریقہ بتانے والی صحیح حدیث سے تو پتا چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کا مسح نہیں کیا کرتے تھے۔ لہٰذا جمہور علما و ائمہ جیسے امام مالک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ اسے مستحب قرار نہیں دیتے اور جو کوئی گردن کے مسح کو مستحب قرار دیتا ہے، اس کا اعتماد اسی اثر یا روایت پر ہے، جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، یا اس ضعیف روایت پر ہے، جس میں مذکور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کا مسح کیا، یہاں تک کہ ہاتھ گدی تک پہنچ گئے۔ ایسی ضعیف روایات قابلِ استدلال و حجت نہیں ہوتیں اور نہ ایسی روایات صحیح احادیث کے مدلول کی معارض و مخالف ہوسکتی ہیں۔ لہٰذا جو شخص گردن کا مسح نہ کرے، اس کا وضو علما کے اتفاق کے ساتھ صحیح ہے۔‘‘ [1] سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ للألباني (۱؍ ۹۸) [2] حوالہ جات سابقہ۔ [3] زاد المعاد (۱؍ ۹۵) نیز ’’فتح القدیر لابن ہمام‘‘ اور ’’عون المعبود‘‘ کا مراجعہ فرمائیں۔