کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 227
لہٰذا جائز تو دونوں صورتیں ہی ہوئیں۔ اب بات رہ جاتی ہے صرف ترجیح کی کہ ان دونوں صورتوں میں سے راجح صورت کون سی ہے؟ اس سلسلے میں مولانا ابو سعید شرف الدین دہلوی رحمہ اللہ نے کانوں کے لیے نیا پانی لینے کے راجح ہونے کا میلان ظاہر کیا ہے۔[1] موطا امام مالک رحمہ اللہ میں حضرت نافع رحمہ اللہ ، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان فرماتے ہیں: ’’إِنَّہٗ کَانَ (إِذَا تَوَضَّأَ) یَأْخُذُ الْمَآئَ بِإِصْبَعَیْہِ لِأُذُنَیْہِ‘‘[2] ’’جب وہ وضو فرماتے تو کانوں کا مسح کرنے کے لیے اپنی (شہادت کی ) دونوں انگلیوں کے ساتھ پانی لیتے تھے۔‘‘ علامہ ابن قیم کی تحقیق کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کانوں کے لیے نیا پانی لینا تو ثابت نہیں، البتہ یہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے۔[3] گردن کا مسح: مسائلِ وضو کے ضمن میں سر اور کا نوں کے مسح کا ذکر ہو چکا ہے۔ بعض لوگ ان کے ساتھ ہی اپنے الٹے ہاتھوں سے گردن کا مسح بھی کرتے ہیں، مگر یہ فعل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ اسے جائز ثابت کرنے کے لیے بعض روایتوں کا سہارا لیا جاتا ہے، جب کہ وہ ضعیف ہونے کی وجہ سے قابلِ استدلال نہیں۔ ان میں سے ایک مسند احمد میں مروی ہے، جسے طلحہ بن مصرف اپنے باپ اور دادا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: (( إِنَّہٗ رَأیَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَمْسَحُ رَأْسَہٗ حَتَّیٰ بَلَغَ الْقَذَالَ، وَمَا یَلِیْہِ مِنْ مُقَدَّمِ الْعُنُقِ )) [4] ’’انھوں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کا مسح کر تے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدی اور گردن کے [1] فتاویٰ علماے حدیث (۱/ ۱۰۳) [2] الموطأ مع تنویر الحوالک للسیوطي (۱؍ ۱؍ ۵۶) طبع بیروت۔ [3] نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۱۶۲) زاد المعاد (۱؍ ۱۹۴۔ ۱۹۵) [4] المنتقیٰ مع النیل (۱؍ ۱؍ ۱۶۳)