کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 223
کچھ حصے کا مسح کیا، جیسا کہ امام ابن المنذر رحمہ اللہ نے کہا ہے اور علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کِسی نے بھی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس فعل سے اختلاف نہیں کیا۔ یہ سب امور بھی سابق الذکر مرسل روایت کو تقویت دیتے ہیں۔[1] اس طرح معلوم ہوا کہ سر پر پگڑی ہو تو اسے پُورا اُتارنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اسے تھوڑا سا اٹھا کر اس طرح مسح کرلیں کہ پیشانی اور سر کے کچھ حصے پر مسح ہو جائے اور پھر پگڑی کے اوپر سے گُدی تک سر کے مسح کو مکمل کر لیں۔ علامہ ابنِ قیّم رحمہ اللہ ’’زاد المعاد‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے مسح کی تین صورتیں تھیں۔ کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے سر کا مسح فرماتے تھے۔ کبھی دستار مبارک کے اوپر سے مسح کر لیتے تھے اور کبھی پیشانی کے بالوں اور دستار دونوں پر مسح کیا کرتے تھے۔‘‘ علامہ موصوف کی تحقیق یہ ہے کہ کسی صحیح حدیث سے یہ ہرگز ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے صرف کچھ حصے پر مسح کیا ہو، بلکہ اگر سر کے کچھ حصے پر مسح کرتے تو بقیہ عمامے پر پورا کرلیتے تھے، جیسا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیثِ مسلم میں ہے اور امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ انھوں نے یہ حدیث ساٹھ (۶۰) رواۃ سے بیان کی ہے۔ امیر صنعانی رحمہ اللہ کے بقول سر کے کچھ حصے کو شامل کیے بغیر صرف پگڑی کے اُوپر کفایت کرنے کو جمہور اہلِ علم درست قرار نہیں دیتے۔[2] علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی تحقیق اپنی جگہ، لیکن صحیح بخاری، سنن ابنِ ماجہ اور مسندِ احمد میں حضرت عَمرو بن اُمیّہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ’’رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَمْسَحُ عَلَیٰ عَمَامَتِہٖ وَخُفَّیْہِ‘‘[3] ’’میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمامے (دستارِ مبارک) اور موزوں پر مسح کرتے تھے۔‘‘ [1] فتح الباري (۱/ ۲۹۳) نیز دیکھیں: نیل الأوطار إمام شوکاني (۱/ ۱/ ۱۵۷۔ ۱۵۸) سبل السلام علامہ صنعاني (۱/ ۱/ ۵۱) طبع بیروت۔ [2] زاد المعاد و تحقیقہ (۱/ ۱۹۴ طبع قطر) سبل السلام (۱/ ۱/ ۵۱۔ ۵۲) [3] صحیح البخاري مع الفتح (۱/ ۳۰۸۔ ۳۰۹) سنن ابن ماجـہ (۵۶۲) فقہ السنۃ سید سابق (۱/ ۴۳)