کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 222
عمامہ یا پگڑی پر مسح کرنا: سر کے مسح کے مسائل میں سے یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اگر کسی نے سر پر پگڑی یا عمامہ باندھ رکھا ہو، تو اس وقت مسح کی کیفیت کیا ہوگی؟ اس سلسلے میں صحیح مسلم میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ’’إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ تَوَضَّأَ فَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہٖ وَعَلَی الْعَمَامَۃِ وَالْخُفَّیْنِ‘‘[1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو آپ نے اپنی پیشانی اور دستار مبارک اور موزوں پر مسح کیا۔‘‘ امام شافعی نے امام عطا سے ایک مرسل روایت بیان کی ہے، جس میں امام عطا فرماتے ہیں: ’’أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم تَوَضَّأَ فَحَسَرَ الْعَمَامَۃَ عَنْ رَأْسِہٖ، وَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِہٖ‘‘[2] ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمامے کو سرِ اقدس سے اتارا اور اپنے سر کے اگلے حصے پر مسح کیا۔‘‘ اس کی تائید سنن ابی داود میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے موصولاً مروی حدیث سے بھی ہوتی ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں: ’’رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَتَوَضَّأُ، وَعَلَیْہِ عَمَامَۃٌ قَطَرِیَّۃٌ، فَأَدْخَلَ یَدَیْہِ تَحْتَ الْعِمَامَۃِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِہٖ وَلَمْ یَنْقُضِ الْعَمَامَۃَ‘‘[3] ’’میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قطری عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک عمامہ کے نیچے داخل کیے اور سر کے اگلے حصے کا مسح کیا اور پورا عمامہ نہیں اتارا۔‘‘ اگرچہ اس کی سَند میں ایک راوی ابو معقل غیر معروف ہے، لیکن حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کے قول کے مطابق مرسل و موصول ان دونوں احادیث کا مجموعی مفاد ایک دوسرے سے مل کر قوت اختیار کر جاتا ہے، جبکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ انھوں نے سر کے [1] صحیح مسلم مع شرح النووي (۳/ ۱۷۳، ۱۷۴) بلوغ المرام مع السبل (۱/ ۱/ ۵۱، طبع بیروت) [2] فتح الباري (۱/ ۲۹۳ طبع دار الإفتاء۔ الریاض) [3] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۴۷) المنتقی مع النیل (۱/ ۱/ ۱۵۷ طبع بیروت)