کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 221
اور موٹا ہو جاتا ہے، جو بالاتفاق جائز ہے۔ ایسا ہی ناخن پالش کو سمجھ لیا جائے۔‘‘[1] مولانا علی محمد سعیدی رحمہ اللہ نے اس جواب کو فتاویٰ علماے حدیث میں نقل کیا تو اپنی طرف سے اس پر کوئی توضیحی نوٹ نہیں لکھا، جیسا کہ متعدد مقامات پر انھوں نے کیا ہے، جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ موصوف بھی اس جواب پر متفق ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اس جواب سے اتفاق نہیں،[2] کیوں کہ موصوف کو علمی مقام و مرتبے کے باوجود معصوم عن الخطا تو نہیں کہا جا سکتا۔ نہ ان کا اپنا دعواے عصمت تھا۔ اس لیے امام مالک رحمہ اللہ کا وہ قول انتہائی اہم ہے، جو وہ مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں درس کے دوران میں کہا کرتے تھے: ’’کُلٌّ یُؤْخَذُ وَیُرَدُّ عَلَیْہِ إِلاَّ صَاحِبُ ھٰذَا الْقَبْرِ‘‘[3] ’’ہر کسی کی کوئی بات مانی اور کوئی رد کی جاسکتی ہے، سوائے اس قبر والے کی بات کے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ اقدس کی طرف اشارہ کیا کرتے تھے۔ غرض نیل پالش کو منہدی پر قیاس کرنے والی رائے مستقیم نہیں اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً یہ کہ منہدی کو چاہے کتنی دفعہ استعمال کریں، اس کا رنگ تو گاڑھا ہوتا جائے گا، جسے موٹا بھی کہا جاسکتا ہے، مگر اس کی کوئی جسامت نہیں ہوگی۔ یعنی ہتھیلی یا ناخن پر اس کی تہہ نہیں جمے گی اور ریموور سے اسے زائل کرنا ممکن نہیں ہوگا، جب کہ نیل پالش کی باقاعدہ تہہ جم جاتی ہے، جسے ریموور کے ساتھ آسانی سے یا کسی بھی دوسری چیز کے ساتھ کھرچ کر زائل کیا جاسکتا ہے۔ منہدی اور پالش کے اس واضح فرق کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ پالش پانی کے ناخن تک پہنچنے میں حائل ہو جاتی ہے، مگر منہدی حائل نہیں ہوتی۔ لہٰذا پالش کو منہدی پر قیاس کرنا درست نہ ہوا اور پالش اتارے بغیر وضو درست نہ ہوا، یہی وجہ ہے کہ عورتوں کے لیے نیل پالش کے استعمال کے جواز کے باوجود یہ احتیاط ضروری ہے کہ اسے بہ وقتِ وضو زائل کر لیا جائے، ورنہ وضو صحیح نہیں ہوگا۔ [1] فتاویٰ علماے حدیث مولانا علی محمد سعیدی، خانیوال (۱/ ۶۹) [2] ممکن ہے کہ اس وقت نیل پالش اتنی گاڑھی نہ ہوتی ہو، جس کی تہہ جم جاتی ہو، جیسا کہ آج کل ہوتا ہے۔ بلکہ پانی کی طرح پتلی ہوتی ہو، جس کی بنا پر حافظ محدّث روپڑیa نے جواز کا فتویٰ دیا ہو۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آج حافظ صاحب زندہ ہوتے تو اس کے عدمِ جواز ہی کا فتویٰ دیتے۔ [3] الاعتصام للشاطبي و صفۃ الصلاۃ للألباني (ص: ۴۹) طبع مکتبۃ المعارف، الریاض۔