کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 220
ناخن پالِش کا حکم: مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ناخن پالش کا حکم بھی ذکر کردیا جائے، کیوں کہ عورتیں عموماً نیل پالِش استعمال کرتی ہیں، جو ان کے لیے جائز بھی ہے کہ وہ استعمال کرسکتی ہیں، مگر اس کے لیے صرف اتنی احتیاط ضروری ہے کہ اگر اس کے لگائے ہوئے ہی کسی نماز کا وقت ہو جائے تو ریمُووَر سے اسے اتار کر وضو کریں اور نماز ادا کریں، اسی طرح غسلِ حیض و نفاس یا غسلِ جنابت واجب ہو تو بھی پہلے اسے اتار لیں اور پھر غسل کریں۔ وضو اور غسلِ واجب کے وقت یہ احتیاط کیوں ضروری ہے اور اسے اتارنا کیوں لازمی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ناخن جسم کے ان حصوں میں سے ہے، جسے غسلِ واجب یا وضو کرتے وقت دھونا ضروری ہے اور پھر اعضاے وضو پر کسی حقیقی ضرورت اور مجبوری کے بغیر کوئی ایسی چیز لگا لینا، جو پانی کو جسم تک پہنچنے سے روکے رکھے، ایسی چیز کی موجودگی میں وضو درست نہیں ہوگا، بلکہ وضو صرف اسی وقت ہو سکے گا، جب اس چیز کو کھرچ دیا جائے۔ نیل پالِش یا کوئی بھی ایسا پینٹ جو خواتین لگایا کرتی ہیں، یہ حقیقی ضرورت کے حکم میں نہیں آتے، بلکہ محض زینت شمار ہوتے ہیں۔ اس لیے وضو کرتے وقت ضروری ہوگا کہ ان کو کھُرچ دیا جائے، تاکہ ناخنوں کی تہہ تک پانی پہنچ سکے۔ اس سلسلے میں فتاوٰی عالمگیری کے یہ الفاظ قابلِ غور ہیں: ’’أَوْ لَزِقَ بِأَصْلِ ظُفْرِہٖ طِیْنٌ یَابِسٌ أَوْ رَطْبٌ لَمْ یَجُزْ‘‘[1] ’’اگر اصل ناخن سے خشک یا گِیلی مِٹی چمٹی ہوئی ہو اور اس کے اوپر سے پانی گزار دیا جائے تو یہ کافی ہوگا نہ وضو صحیح ہوگا۔‘‘ برصغیر کے اہلِ حدیث علماے کرام میں سے ایک معروف عالم حافظ عبداللہ محدّث روپڑی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا عورت ناخن پر ناخن پالش لگا کر وضو کرکے نماز پڑھ سکتی ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ناخن پالش لگا کر وضو کرے تو وضو نہیں ہوتا؟ اس سوال کا جواب موصوف نے اپنے ہفت روزہ اخبار ’’تنظیم اہلِ حدیث‘‘ (جلد: ۱۷ شمارہ: ۳۳) میں شائع کیا، جو لفظ بہ لفظ یہ ہے: ’’ناخن پالش منہدی کی قِسم سے ہے۔ منہدی کا رنگ بھی دو تین دفعہ لگانے سے گاڑھا [1] بحوالہ جدید فقہی مسائل (ص: ۱۹)