کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 218
ثابت نہیں، لیکن امام غزالی رحمہ اللہ نے پاؤں کی انگلیوں کے خلال کو استنجا پر قیاس کیا ہے اور بائیں ہاتھ کی تجویز پیش کی ہے۔[1] انگوٹھی اور چوڑیوں کا ہِلانا: وضو کے لیے جب ہاتھ دھونے لگیں تو ایک چیز یہ بھی پیشِ نظر رکھیں کہ اگر کسی ہاتھ میں انگوٹھی ہو یا کسی عورت نے کنگن یا چوڑیاں پہن رکھی ہوں تو انھیں ہلا دینا چاہیے، تاکہ کہیں ان کے تنگ ہونے کی وجہ سے نیچے کی جگہ خشک نہ رہ جائے۔ اس سلسلے میں ایک ضعیف روایت بھی مروی ہے، جو ابن ماجہ اور دارقطنی میں حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: (( کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوْئَ الصَّلَاۃِ حَرَّکَ خَاتَمَہٗ فِي إِصْبَعِہٖ )) [2] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا وضو کرنے لگتے تو اپنی انگلی میں انگوٹھی کو ہلاتے تھے۔‘‘ مگر یہ روایت معمر بن عبداللہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ محدثین نے اسے منکر الحدیث کہا ہے۔ وہ اپنے باپ محمد بن عبیداللہ سے بیان کرتے ہیں، جبکہ وہ بھی سخت منکر الحدیث اور ذاہب و متروک ہیں، لہٰذا یہ سند ضعیف ہوئی۔[3] زاد المعاد میں علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔[4] البتہ صحیح بخاری شریف میں تعلیقاً اور تاریخِ امام بخاری اور مصنف ابن شیبہ میں موصولاً امام ابن سیرین رحمہ اللہ سے صحیح سند کے ساتھ یہی مروی ہے، چنانچہ بخاری شریف ’’باب غسل الأعقاب‘‘ کے ترجمے میں مذکور ہے: ’’وَکَانَ ابْنُ سِیْرِیْنَ یَغْسِلُ مَوْضِعَ الْخَاتَمِ إِذَا تَوَضَّأَ‘‘[5] [1] سبل السلام (۱؍ ۱؍ ۴۸) إحیاء علوم الدین للغزالي (۱؍ ۱۱۹) طبع عالم الکتب دمشق۔ [2] سنن ابن ماجـہ، رقم الحدیث (۴۴۹) مشکاۃ المصابیح بتحقیق الألباني (۱/ ۱۳۳۔ ۱۳۴) ضعیف الجامع الصغیر، رقم الحدیث (۴۳۶۶) [3] المرعاۃ شرح المشکاۃ علامہ عبید اﷲ رحمانی مبارکپوری (۱/ ۴۸۹) تحقیق المشکاۃ للألباني (۱/ ۱۳۴) [4] زاد المعاد (۱/ ۱۹۸) [5] صحیح البخاري مع فتح الباري (۱/ ۲۶۷) یہ صحیح اثر امام ابن سیرینa کے بارے میں تاریخ امام بخاری میں موصولاً مہدی بن میمون کے حوالے سے اور مصنف ابن ابی شیبہ میں بھی موصولاً ہی مروی ہے، لیکن خالد کے حوالے سے مروی ہے۔ فتح الباري شرح صحیح البخاري (۱/ ۲۶۷)