کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 213
ڈاڑھی کا خلال: جو لوگ سنتِ رسول بلکہ سنتِ انبیا رضی اللہ عنہم سے عداوت نہیں رکھتے، بلکہ ڈاڑ ھی رکھے ہوئے ہوں، ان کے لیے منہ دھوتے وقت ڈاڑ ھی کا خلال بھی مستحب ہے، کیوں کہ سنن ترمذی و ابن ماجہ ، صحیح ابن خزیمہ و ابن حبان، مستدرک حاکم اور سنن دارقطنی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: (( إنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَانَ یُخَلِّلُ لِحْیَتَہٗ )) [1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ڈاڑھی کا خلال کیا کرتے تھے۔‘‘ ڈاڑھی کے خلال کا طریقہ سنن ابو داود میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یوں مروی ہے: (( إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَانَ إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ کَفًّا مِنْ مَّائٍ فَأَدْخَلَہٗ تَحْتَ حَکَنِہٖ فَخَلَّلَ بِہِ لِحْیَتَہٗ وَقَالَ: ھٰکَذَا أَمَرَنِيْ رَبِّيْ عَزَّوَجَلَّ)) [2] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو پانی کا ایک چلو لے کر اسے اپنی ٹھوڑی کے نیچے داخل کرتے اور اس سے ڈاڑھی کا خلال کرتے اور فرمایا: مجھے میرے پروردگار نے اسی طرح حکم دیا ہے۔‘‘ اس موضوع کی اور بھی کئی احادیث متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں، مگر وہ تقریباً سب کی سب متکلم فیہ ہیں۔[3] یہ احادیث بکثرت ہیں، یہی وجہ ہے کہ علامہ مبارک پوری رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ ان کی یہ کثرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ خلال کی اصل ضرور ہے اور کیسے نہ ہو، جب کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے حدیثِ عثمان رضی اللہ عنہ کو صحیح کہا ہے۔ امام بخاری نے اسے حسن کہا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے خلال کے بارے میں حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حسن قرار دیا ہے۔ یہ احادیث مجموعی طور پر خلال کے استحباب پر دلالت کرتی ہیں اور میرے نزدیک یہی حق ہے۔ [1] صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۸) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۳۰) موارد الظمآن، رقم الحدیث (۱۵۴) المنتقیٰ مع النیل (۱؍ ۱؍ ۱۴۸۔ ۱۴۹) [2] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۳۲) و الحاکم في المستدرک (۱؍ ۱۴۹) صححہ الألباني في تحقیق المشکاۃ (۱؍ ۱۲۹) و إرواء الغلیل (۱؍ ۱۳۰) [3] تفصیل کے لیے دیکھیں: نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۱۴۹)