کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 212
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اس طرح تھا۔‘‘ سنن نسائی، مسند احمد اور سننِ دارمی میں عبد خیر بیان کرتے ہیں کہ نمازِ فجر کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک جگہ بیٹھ کر کسی غلام کے ہاتھوں پانی منگوایا اور وضو کرنے لگے، جبکہ ہم سب انھیں دیکھ رہے تھے۔ اس حدیث میں ہے: (( وَنَثَرَ بِیَدِہِ الْیُسْریٰ، فَعَلَ ھٰذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ )) ’’انھوں نے اپنے بائیں ہاتھ سے ناک کو جھاڑا اور ایسا تین مرتبہ کیا۔‘‘ آخر میں فرمایا: (( مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَّنْظُرَ إِلٰی طُھُوْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَھٰذَا طُھُوْرُہٗ )) [1] ’’جسے یہ بات خوش گو ار معلوم ہو کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھے تو (وہ جان لے کہ) یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔‘‘ 3۔منہ دھونا: ہاتھ دھونے، کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے اور جھاڑنے کے بعد تین تین مرتبہ منہ دھویا جاتا ہے، مگر کتنے ہی لوگ ایسے بھی ہیں، جو منہ دھونے میں اتنی جلد بازی اور بے پروائی کرتے ہیں کہ ان کی ٹھوڑی نیچے سے خشک رہ جاتی ہے، جب کہ اس طرح وضو مکمل نہیں ہوتا، کیوں کہ اس طرح چہرہ پورا نہیں دھلتا۔ چہرے کی حدود: فقہا نے منہ یا چہرے کی جو حدود بیان کی ہیں، وہ امام ابن قدامہ، علامہ ابو القاسم خرقی اور شیخ سید سابق وغیرہ کے بقول اس طرح ہیں کہ ماتھے کا وہ مقام جہاں سے سر کے بال شروع ہوتے ہیں، وہاں سے لے کر جبڑوں تک اور ٹھوڑی کے نچلے حصے تک اور دائیں کا ن سے لے کر بائیں کان تک کے مابین والے حصے کو منہ یا چہرہ شمار کیا جاتا ہے۔[2] لہٰذا منہ دھوتے وقت ٹھوڑی اور دو نوں جبڑوں کے نچلے حصے کو دھونا بھی ضروری ہے۔ [1] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۰۲) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۹۱) المشکاۃ مع المرعاۃ (۱؍ ۴۷۵۔ ۴۷۶) وصححہ الألباني في تحقیق المشکاۃ (۱؍ ۱۲۹) [2] المغني (۱؍ ۱۱۴) وفقہ السنۃ (۱؍ ۴۳)