کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 209
’’ایک ہی چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کی یہ صریح دلیل ہے۔‘‘[1] اسی موضوع پر دیگر احادیث بھی مروی ہیں، مثلاً صحیح ابن حبان، سنن دارمی اور مستدرکِ حاکم میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (( إِنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم تَوَضَّأَ مَرَّۃً، وَجَمَعَ بَیْنَ الْمَضْمَضَۃِ وَالْإِسْتِنْشَاقِ )) [2] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اعضا کو ایک مرتبہ دھو کر وضو کیا اور کلی و ناک میں ایک ہی چلو سے پانی چڑھایا۔‘‘ ایسے ہی سنن نسائی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: (( تَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَغَرَفَ غَرْفَۃً، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَۃً فَغَسلَ وَجْھَہٗ )) [3] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چلو پانی لیا، اس سے کلی کی اور ناک میں بھی چڑھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چلو پانی اور لیا اور اس سے منہ دھویا۔‘‘ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انھوں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی مسنون کیفیت بیان کرنے کے لیے جب وضو کیا: (( أَخَذَ غَرْفَۃً مِنْ مَّآئِ فَمَضْمَضَ بِہَا وَاسْتَنْشَقَ )) [4] ’’انھوں نے ایک چلو پانی لیا، جس سے کلی بھی کی اور ناک میں بھی چڑھایا۔‘‘ نیز سنن ابی داود و نسائی اور مسند احمد و طیالسی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی تین روایات ہیں، ان تینوں میں بھی ایک چلو پانی ہی سے کلی کرنے اور ناک میں چڑھانے کا ذکر ہے۔[5] یہ طریقہ جو عام طور پر مروج ہے کہ پہلے تین مرتبہ تین چلوؤں سے کلی کی جاتی ہے اور پھر تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھا کر اسے صاف کیا جاتا ہے، یہ طریقہ صحیح احادیث سے ثابت نہیں۔ ہاں سنن [1] فتح الباري (۱؍ ۲۹۱) [2] تحفۃ الأحوذي و حسنہ (۱؍ ۱۲۳) [3] صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۹۹) و تحفۃ الأحوذي و حسنہ (۱؍ ۱۲۳) [4] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۲۴۰) [5] التلخیص الحبیر (۱؍ ۱؍ ۷۹۔ ۸۱) و تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۱۲۴)