کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 207
اس واقعے سے معلوم ہوا کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے دوران میں بات کی اور حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتارنے سے روکتے ہوئے نہ اتارنے کا سبب بھی بتایا تھا۔ اعضاے وضو کو دھونے میں تیامن: جسم کے جو اعضاے وضو جوڑا جوڑا ہیں، جیسے ہاتھ، پاؤں، کلائیاں؛ انھیں وضو کے دوران میں دھوتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ پہلے دائیں کو دھویا جائے اور پھر بائیں کو، کیوں کہ صحیح بخاری و مسلم اور سننِ اربعہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: (( کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یُحِبُّ التَّیَمُّنَ مَا اسْتَطَاعَ فِيْ شَأْنِہٖ کُلِّہٖ، فِيْ وُضُوْئِ ہٖ وَتَرَجُّلِہٖ وَتَنَعُّلِہٖ )) [1] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسبِ استطاعت اپنے تمام امور میں دائیں پہلو کو محبوب رکھتے تھے۔ طہارت (کے دوران میں اعضاے وضو کو دھونے) میں، سر کو کنگھا کرنے میں اور جوتا پہننے میں بھی (دائیں جانب سے آغاز کرنا ہی محبوب تھا)۔‘‘ اس عام مفہوم والی حدیث کے علاوہ خاص وضو کے بارے میں بھی سنن ابی داود و ابن ماجہ، صحیح ابن حبان و ابن خزیمہ، مسند احمد اور سنن کبریٰ بیہقی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِذَا لَبِسْتُم وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَأُوْا بِأَیَا مِنِکُمْ )) [2] ’’جب تم کوئی لباس پہنو اور جب وضو کرو، تو دائیں اعضا سے شروع کرو۔‘‘ مثلاً اگر قمیص پہننے لگیں تو پہلے دایاں بازو پہنیں، شلوار، پاجامہ یا پتلون پہننے لگیں تو پہلے دائیں [1] صحیح البخاري مع الفتح، رقم الحدیث (۴۲۶) صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۶۰۔ ۱۶۱) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۴۸۷) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۴۹۸) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۴۰۸) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۰۱) مشکاۃ المصابیح مع المرعاۃ (۱؍ ۴۶۷۔ ۴۶۸) [2] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۴۸۸) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۰۲) موارد الظمآن، رقم الحدیث (۱۴۷) و صحیح الجامع، رقم الحدیث (۷۸۷) مشکاۃ المصابیح مع مرعاۃ المفاتیح (۱؍ ۱۶۸۔ ۱۹۶) و صححہ الألباني في تحقیق المشکاۃ (۱؍ ۱۲۷)