کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 206
بھی آتا ہے، بلکہ وہاں سے تو دائیں بائیں والوں کے علاوہ ایک آگے اور ایک پیچھے یعنی ہر انسان کے ساتھ چار فرشتوں کی تعیناتی کا پتا چلتا ہے۔ ایک صحیح حدیث کی روسے ان فرشتوں کی صبح و شام تبدیلی ہوتی رہتی ہے، پہلے جاتے اور نئے آتے رہتے ہیں۔ گویا زبان سے نکلی ہوئی ہر بات کا لفظ لفظ ریکارڈ ہوتا رہتا ہے، لہٰذا ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ منہ سے کسی بھی وقت کوئی بری بات نہ نکلے۔ قرآنِ کریم کے ان تینوں مقامات کے علاوہ متعدد احادیث میں بھی ناروا باتوں سے اپنی زبان کی حفاظت کا حکم وارد ہوا ہے، جس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں، کیوں کہ حفاظتِ زبان اور آفاتِ زبان تو الگ ایک مستقل موضوع ہے۔ سرِدست غرض صرف یہ ہے کہ جب عام حالات میں ناجائز اور ناروا بات کا زبان سے نکالنا ٹھیک نہیں تو ایسی باتیں دورانِ وضو کیسے ٹھیک ہو سکتی ہیں؟ مگر بقول علامہ سید سابق باتیں کرنے کی مخالفت بھی وارد نہیں تو اس کا معنیٰ یہ ہوا کہ دورانِ وضو اگر کوئی مباح بات ہو تو کی جاسکتی ہے۔[1] فتاوی علماے حدیث میں بھی یہی مذکور ہے۔[2] ایسی بات کا کرنا مباح ہوگا، گناہ نہیں۔ احادیث میں مذکور بعض واقعات سے پتا چلتا ہے کہ دورانِ وضو مباح بات کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری ومسلم اور سنن ابو داود میں موزوں اور جرابوں پر مسح کے باب میں حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے، جس میں ان کے سامنے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کرنے کا واقعہ مذکور ہے اور اس بات کا ذکر بھی ہے کہ جب پاؤں دھونے کی باری آئی تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتارنے کے لیے جھکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( دَعْھُمَا فَإِنِّيْ أَدْخَلْتُھُمَا طَاھِرَتَیْنِ فَمَسَحَ عَلَیْھِمَا )) [3] ’’انھیں رہنے دو، کیوں کہ میں نے یہ اسی وقت پہنے تھے، جب میرے دونوں پاؤں پاک تھے (یعنی میں وضو سے تھا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مسح کیا۔‘‘ [1] فقہ السنۃ (۱؍ ۶۰) [2] فتاویٰ علماے حدیث (۱/ ۵۸) [3] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۳۰۹) صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۰۷) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۳۷) المنتقیٰ مع النیل (۱؍ ۱۸۰)