کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 204
3۔ وضو کی دعاؤں کے ضمن میں یہ بھی ملتا ہے کہ وضو مکمل کرکے سورۃ القدر {اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ۔۔۔} کی تلاوت کی جائے، لیکن اس سلسلے میںعرض ہے کہ سورۃ القدر قرآنِ کریم کی ایک قابلِ قدر سورت ہے اور اس کی تلاوت کارِ ثواب ہے، مگر اس کی تلاوت کے لیے وضو مکمل کر لینے کے بعد کے وقت کی تعیین کہاں سے آگئی؟ یہی وجہ ہے کہ اس موقع پر اس سورت کی تلاوت کو امام سخاوی رحمہ اللہ نے اصل قرار دیا ہے اور اس موقع پر اس کی تعیین کو دوسری مسنون و ثابت شدہ دعاؤں کے فوت کرنے کا سبب شمار کیا ہے۔[1] 4۔ دورانِ وضو یا وضو کر لینے کے بعد ایک دعا ثابت ہے، جو امام نسائی اور ابن السنی کی ’’عمل الیوم واللیلۃ للنسائي‘‘ میں مروی ہے، اس دعا کے الفاظ یہ ہیں: (( اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِیْ، وَوَسِّعْ لِيْ فِيْ دَارِيْ وَبَارِکْ لِيْ فِيْ رِزْقِيْ )) ’’اے اللہ ! مجھے بخش دے، میرے گھر میں کشایش فرما اور رزق میں برکت فرما۔‘‘ امام نسائی کی تبویب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا وضو مکمل کر لینے کے بعد کی ہے، جب کہ امام ابن السنی کی تبویب سے اس کا دورانِ وضو کی دعا ہونا معلوم ہوتا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس دعا کے دونوں مواقع کے لیے ہونے کا امکان ہے۔ امام نووی اور علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔[2] علامہ ابن قیم نے ’’زاد المعاد‘‘ (۱/ ۲۶۲) میں اسے تشہّد کی دعاؤں میں شمار کیا ہے اور دوسری جگہ (زاد المعاد: ۲/ ۳۸۹) اسے وضو کی دعاؤں میں بیان کیا ہے۔ شیخ البانی نے ’’تمام المنۃ‘‘ (ص: ۹۴۔ ۹۶) میں اور ’’صلاۃ الرسول‘‘ کی تحقیق میں حافظ عبدالرؤفd نے بعض قرائن ذکر کرکے اس کے نماز کی دعاؤں میں سے ہونے ہی کو راجح کہا ہے۔[3] اثناے وضو باتیں کرنا: دورانِ وضو کی ثابت اور غیر ثابت دعاؤں کا ذکر چل رہا ہے تو آگے بڑھنے سے پہلے مناسب [1] سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ و الموضوعۃ للألباني (۱؍ ۹۷) [2] عمل الیوم واللیلۃ للنسائي (ص: ۱۷۲) تحقیق فاروق أحمد حمادہ طبع مراکش۔ [3] صلاۃ الرسول (تخریج: ۱۱۶)