کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 203
’’بسم اللہ کے سوا نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر ہر عضو کو دھوتے وقت کی کوئی بھی دعا ثابت نہیں ہے، بلکہ ان دعاؤں پر مشتمل ہر روایت کذب و اختلاق پر مشتمل ہے۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی کوئی دعائیں کی ہیں اور نہ اپنی امت ہی کو سکھلائی ہیں۔ پھر انھوں نے آگے وضو کے اوّل و آخر میں ثابت شدہ دعائیں ذکر کی ہیں۔‘‘[1] امام نووی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الأذکار‘‘ (ص: ۳۰) میں ان دعاؤں کو بناوٹی اور بے اصل قرار دیا ہے۔ شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے مسائل و احکامِ اسلام کے موضوع پر جامع ومانع کتاب ’’بلوغ المرام‘‘ مرتب کی تو مسائلِ وضو اور خصوصاً وضو کی دعاؤں میں صرف اس کے آغاز میں ’’بسم اﷲ‘‘ اور آخر میں کلمہ شہادت اور (( اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَہِّرِیْنَ )) والی دعا ذکرکر نے پر ہی اکتفا کیا اور جب علامہ صنعانی حضرت امیر یمانی نے ’’سبل السلام‘‘ کے نام سے اس کتاب کی بہترین شرح لکھی تو مصنف کے اس طرزِ عمل کو سراہتے ہوئے لکھا کہ انھوں نے اعضاے وضو کو دھوتے وقت کی الگ الگ دعائیں ذکر ہی نہیں کیں، کیوں کہ وہ بالاتفاق ضعیف ہیں، پھر انھوں نے امام نووی اور حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ کے اقوال بھی نقل کیے ہیں، جن میں انھوں نے ان دعاؤں کو غیر صحیح اور بے اصل قرار دیا ہے۔[2] سنن ترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی میں علامہ مبارک پوری نے بھی متعدد محدثینِ کرام کے اقوال نقل کر کے ان دعاؤں کے من گھڑت ہونے کی تائید کی ہے۔[3] جب ان دعاؤں کی اسنادی حیثیت یہ ہے تو پھر اب انھیں نقل کر نے کی بھی ضرور ت نہیں ہے، جسے وہ دعائیں ضرور ہی دیکھنا ہو، وہ حافظ ابن حجر کی ’’التلخیص الحبیر‘‘ (۱/ ۱/ ۱۰۰)، ’’إحیاء علوم الدین للغزالي‘‘ (۱؍ ۱۱۸۔ ۱۱۹) یا ’’الأذکار للنووي‘‘ ( ص ۲۴) اور پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کے سابق مشیر مولانا ابو عبدالسلام محمد صدیق صاحب سرگودھوی کی کتاب ’’راہِ سنت‘‘ (ص: ۱۲۷۔ ۱۲۸) میں دیکھ سکتے ہیں۔ [1] زاد المعاد محقق (۱؍ ۱۹۵۔ ۱۹۶) [2] سبل السلام (۱؍ ۵۵۔ ۵۶) طبع مصر۔ [3] تحفۃ الأحوذي (۱؍ ۱۸۲)