کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 199
پڑ ھتی ( یا پڑھتا ) ہوں۔ بس اتنا خیال کر کے اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لیوے تو نماز ہو جائے گی۔ جو لمبی چوڑی نیت لوگوں میں مشہور ہے، اس کا کہنا کچھ ضروری نہیں ہے۔‘‘ پھر موصوف کے مشورے اور اجازت سے لکھے گئے حاشیے میں مذکور ہے: ’’یعنی لوگ نماز میں بڑی لمبی چوڑی نیت کر تے ہیں، یہاں تک کہ امام قراء ت پڑھنے لگتا ہے اور اس کی نیت ختم نہیں ہوتی ،ایسا کرنا براہے۔‘‘ پھر آگے مسئلہ نمبر ۱۲ میں تھوڑی سی ڈھیل بھی دے دی ہے، جو بلا دلیل ہے۔[1] 2- بِسْمِ اللّٰہ پڑھنا: وضو کے سلسلے کی دوسری بات اس کے شروع میں ’’بسم اللہ‘‘ کا پڑھنا بھی ہے۔[2] امام نووی نے بھی لکھا ہے: ’’اگر صرف ’’بسم اللہ‘‘ پڑھ لے تو بھی کفایت کر جاتا ہے۔‘‘[3] کیوں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنن ابی داود، ابن ماجہ، دار قطنی، بیہقی، مستدرکِ حاکم اور مسند احمد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَا صَلَاۃَ لِمَنْ وَ لَا وُضُوْئَ لِمَنْ لَّمْ یَذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ )) [4] ’’اس کی کوئی نماز نہیں، جس کا وضو نہیں اور اس کا کوئی وضو نہیں، جس نے اس کے شروع میں ’’بسم اللہ‘‘ نہیں پڑھی۔‘‘ شواہد کی بنا پر شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ امام منذری، حافظ ابن حجر، [1] بہشتی زیور، مکمل و مدلل (ص: ۱۳۔ ۱۴) تاج کمپنی۔ [2] صرف ’’بسم اﷲ‘‘ ہی پڑھیں، کیوںکہ اس جگہ ’’الرحمن الرحیم‘‘ کا اضافہ تو کسی ضعیف حدیث میں بھی مروی نہیں، اس لیے صرف ’’بسم اللہ‘‘ کہنا ہی سنت ہے۔ اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ ہمارے فاضل دوست حافظ عبدالرؤف (شارجہ، حال وارد کویت) نے اور دوسرا شیخ انصار زبیر محمدی (الجبیل، حال ممبیٔ) نے لکھا ہے اور یہ دونوں مطبوع ہیں۔ [3] الأذکار للنووي (ص: ۲۲) [4] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۹۲) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۹۹) إرواء الغلیل (۱؍ ۱۲۲) والمنتقیٰ (۱؍ ۱؍ ۱۳۴) زاد المعاد تحقیق الأرناؤوط (۱؍ ۹۵)