کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 197
(( إِزْھَدْ فِي الدُّنْیَا یُحِبُّکَ اللّٰہُ، وَازْھَدْ فِیْمَا أَیْدِي النَّاسِ یُحِبُّکَ النَّاسُ )) [1] ’’مال ومتاعِ دنیا کی محبت چھوڑ دو، اللہ تم سے محبت کرنے لگے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے، اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا چھوڑدو تو لوگ بھی تم سے محبت کرنے لگیں گے۔‘‘ نیت کے مسئلے سے تعلق رکھنے والی اس حدیث کے مقام و مرتبے کی عظمت و رفعت کے پیشِ نظر یہ تھوڑی سی تفصیل بھی آگئی ہے۔ بہر حال امام ابن قدامہ رحمہ اللہ ’’المغني‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’وضو بھی ایک عبادت ہے اور کوئی عبادت نیت کے بغیر نہیں ہوتی، کیوں کہ اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کا تقرب، اس کی اطاعت اور اس کے فرمان کی بجا آوری ہوتا ہے اور یہ بغیر نیت حاصل نہیں ہوسکتا۔‘‘[2] امام ابو البرکات المجد ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’المنتقیٰ‘‘ میں اسی حدیث (( إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ )) پر جو عنوان ذکر کیا ہے، وہ یہ ہے: ’’باب الدلیل علیٰ وجوب النیۃ لہ‘‘ یعنی ’’وضو کے لیے نیت کے واجب ہونے کی دلیل کا بیان۔‘‘ اس حدیث کی شرح بیان کرنے کے بعد امام شوکانی رحمہ اللہ ’’نیل الأوطار شرح منتقیٰ الأخبار‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نیک اعمال میں نیت شرط ہے۔‘‘[3] نیت کے الفاظ کی شرعی حیثیت: یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ وضو کی نیت تو واجب یا شرط ہے، مگر اس کے لیے یہ درست نہیں کہ کوئی شخص اس نیت کے الفاظ بھی ادا کرے اور اس پر یشانی میں مبتلا ہوجا ئے کہ نیت کے الفاظ کیا ہیں؟ زبانی یاد کرنے پڑیں گے، یاد بھی ہوں گے یا نہیں؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے بھی نیت کے کوئی بھی الفاظ ثابت نہیں ہیں۔ شارح صحیح مسلم امام نووی رحمہ اللہ اور دیگر علما کا کہنا ہے کہ نیت دل کا فعل ہے نہ کہ زبان کا، یعنی صرف دل کے [1] صحیح البخاري مع فتح الباري (۱؍ ۱۱) صحیح مسلم مع شرح للنووي (۶؍ ۱۱؍ ۲۹) تحقیق و تعلیق صحیح مسلم از محمد فواد عبدالباقي (۳؍ ۱۲۱۹۔ ۱۲۲) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۱۰۲) السلسلۃ الصحیحۃ، رقم الحدیث (۹۴۴) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۹۲۲) [2] المغني (۱؍ ۱۱۳۔ ۱۱۴) [3] نیل الأوطار (۱؍ ۱؍۱۳۳)