کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 196
حصہ ثابت کرنے کے لیے لکھا ہے کہ انسان کا کسب وعمل تین ہی اشیا سے وقوع پذیر ہوتا ہے، جن میں پہلی چیزدِل، دوسری زبان اور تیسری اعضاے جسمانی ہیں اور نیت ان تین میں سے ایک بلکہ راجح ہے،، لہٰذا یہ حدیث ’’ثلث العلم‘‘ ہوئی۔ امام احمد رحمہ اللہ نے اس کے ثلث العلم ہونے کی ایک دوسری توجیہ بیان کی ہے کہ اسلام کے احکام جن تین قواعد کے گرد گھومتے ہیں، ان میں سے ایک قاعدہ اس حدیث میں مذکور ہے، لہٰذا یہ ثلث العلم ہے۔ ایسی ہی احادیث میں سے دوسری حدیث صحیح بخاری ومسلم میں مذکور ہے: (( اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا أُمُوْرٌ مُشْتَبِھَاتٌ )) [1] ’’(اسلام میں) حلال و حرام واضح ہیں اور ان دونوں (حرام و حلال) کے درمیان مشتبہ امور ہیں۔‘‘ اس سلسلے کی تیسری حدیث وہ ہے، جس میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( مَنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہِ )) [2] ’’کسی کے حسنِ اسلام کی علامت یہ ہے کہ وہ لایعنی امور کو ترک کر دے۔‘‘ بعض علما نے اس حدیث کو احکام و علمِ دین کا ایک چوتھائی حصہ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک چوتھی حدیث وہ ہے، جس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّیٰ یُحِبَّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ )) [3] ’’اس وقت تک کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا، جب تک وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے، جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ بعض اہلِ علم نے اس کے بجائے چوتھی حدیث اسے قرار دیا، جس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: [1] صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۹۶۳) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۹۸۴) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۳۱۹۳) [2] صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۸۸۶۔ ۱۸۸۷) سنن ابن ماجہ (۳۹۷۶) صحیح الجامع (۵۹۱۱) [3] صحیح البخاري مع الفتح (۱۳) صحیح مسلم مع شرح النووي (۲؍ ۱۶۔ ۱۷) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۰۴۲) صحیح سنن النسائي (۳۶۴۳) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۸۳۔ ۷۵)