کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 195
اس حدیث کی سند کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ البتہ اس کے جزوِ ثانی یعنی نماز کی چابی وضو ہے، اس کی شاہد ایک حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔[1] لہٰذا ان الفاظ کی تائید اس شاہد سے بھی ہوگئی۔ اسی لیے ہم نے اس حدیث کے الفاظ ذکر کر دیے ہیں، ورنہ اگر سنن ترمذی اور مسندِ احمد والی صرف مذکور ہ حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ ہی ہوتی تو وہ قابلِ حجت نہیں تھی۔ 1۔نیت: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ دیگر عبادات کی طرح وضو کے لیے بھی نیت شرط ہے، کیوں کہ صحیح بخاری ومسلم، سننِ اربعہ اور اکثر کتبِ حدیث میں خلیفۂ ثانی امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالِنِّیَاتِ )) [2]’’ تمام اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔‘‘ اس حدیث کی عظمت و رفعت: یہ صحیح بخاری کی سب سے پہلی حدیث ہے اور اس کے علاوہ بھی چھے دوسرے مقامات پر امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اسے وار دکیا ہے۔ ائمہ کرام سے تواتر کے ساتھ اس حدیث کی عظمت و اہمیت منقول ہے، حتیٰ کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں جامع و مانع اور کثیر الفائدہ ہونے کے اعتبار سے اس حدیث کا مقابلہ دوسری کوئی حدیث نہیں کرسکتی۔ امام شافعی، عبد الرحمن بن مہدی، احمد بن حنبل، علی بن مدینی استاذِ امام بخاری، ابو داود، ترمذی، دار قطنی اور حمزہ الکنانی رحمہم اللہ نے بالاتفاق اس حدیث کو اسلام کا ایک تہائی حصہ قرار دیا ہے۔ بعض علما نے کل احکامِ اسلام کا ایک چو تھائی اس حدیث کو کہا ہے۔ امام ابن مہدی کہتے ہیں کہ یہ حدیث علم کے تیس ابواب پرمشتمل ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے علمِ دین کے ستر ابواب پر مشتمل قرار دیا ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسے احکامِ اسلام کا ایک تہائی [1] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۵۵) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۷۵) تحقیق مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۹۷) [2] صحیح البخاري مع الفتح (۱؍ ۹) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۹۲۷) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۷۳، ۳۲۱۵، ۳۵۵۲) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۳۴۴) المنتقیٰ مع النیل (۱؍ ۱؍ ۱۵۶)