کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 192
(( ھٰذَا الْوُضُوْئُ، فَمَنْ زَادَ عَلٰی ھٰذَا فَقَدْ أَسآئَ وَتَعَدَّیٰ وَظَلَمَ )) [1] ’’یہ وضو ہے اور جو اس سے زیادہ مرتبہ دھوئے، اس نے براکیا، زیادتی کی اور ظلم کیا۔‘‘ اس برائی، زیادتی اور ظلم کی اہلِ علم نے متعدد تو جیہات بیان کی ہیں، جن میں حد سے تجاوز، ترکِ اَولیٰ اور ترکِ سنت کی وجوہات ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’التلخیص الحبیر في تخریج أحادیث الرافعي الکبیر‘‘ میں اور امام شوکانی رحمہ اللہ نے ’’نیل الأوطار‘‘ میں وہ توجیہات ذکر کی ہیں۔ امام ابن مبارک رحمہ اللہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’جو شخص دورانِ وضو تین سے زیادہ مرتبہ اعضاے وضو دھوئے، مجھے خدشہ ہے کہ وہ گناہ گار ہوگا۔‘‘ امام احمد اور امام اسحاق ابن راہویہ رحمہ اللہ سے منقول ہے: (( لَا یَزِیْدُ عَلٰی ثَلَاثٍ إِلَّا رَجُلٌ مُبْتَلًی )) [2] ’’تین مرتبہ سے زیادہ اعضاے وضو کو دھونے والاشخص مبتلاے وہم اور مریضِ وسواس ہے۔‘‘ ہاں! یہاں یہ بات بھی واضح کر دیں کہ تین سے زیادہ مرتبہ اعضاے وضو کو دھونے والے شخص کو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس حدیث میں برائی، زیادتی اور ظلم کرنے والا کہا ہے، اس کے طُرق کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے اور فتح الباری میں اس حدیث کے بارے میں امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ اور دیگر محدّثین کی تصحیح نقل کی ہے۔ دورِ حاضر کے معروف محدث علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے۔ البتہ سنن ابو داود کی روایت میں (( فَمَنْ زَادَ عَلٰی ھٰذَا )) کے بعد والے الفاظ (( أَوْ نَقَصَ )) کو منکر یا شاذ قرار دیا ہے۔[3] اس سلسلہ میں امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (( اَلْعَمَلُ عَلٰی ھٰذَا عِنْدَ عَامَّۃِ أَھْلِ الْعِلْمِ أَنْ الْوُضُوْئَ یُجْزِیُٔ مَرَّۃً، وَمَرَّتَیْنِ أَفْضَلُ، وَأَفْضَلُہٗ ثَلَاثًا، وَلَیْسَ بَعْدَہٗ شَیْیٌٔ )) [4] [1] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۲۳) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۳۶) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۲۳) المنتقیٰ مع النیل (۱؍ ۱؍ ۲۰۳) [2] نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۲۰۴) [3] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱؍ ۲۸) نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۲۰۳) و تحقیق المشکاۃ (۱؍ ۱۳۱) [4] سنن الترمذي مع التحفۃ (۱؍ ۱۵۹)