کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 191
کے علاوہ متعدد دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی احادیث سے بھی ثابت ہے۔ ان احادیث کو امام شوکانی رحمہ اللہ نے ’’نیل الأوطار‘‘ میں جمع کر دیا ہے اور ان کی اسانید پر کلام بھی کیا ہے۔[1] ایک ایک مرتبہ اعضا کو دھونے والی احادیث ذکر کرنے کے بعد امام شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ وضو کے لیے صرف ایک ایک مرتبہ ہی اعضاے وضو کو دھونا واجب ہے۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اکتفا کیا ہے۔ اگر دو دو مرتبہ یا تین تین مرتبہ دھونا واجب ہوتا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک مرتبہ دھونے پر ہر گز اکتفا نہ کرتے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بات پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ تمام اعضاے وضو کو ایک ایک مرتبہ دھونا تو واجب ہے اور تین تین مرتبہ دھونا سنت ہے۔[2] گو یا یہ تینوں طریقے ثابت اور جائز ہیں۔ البتہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر معمول تین تین بار دھونا تھا اور بیانِ جواز کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو مرتبہ اور ایک ایک بار بھی دھویا اور تین تین بار دھونا اکمل ہے۔[3] تین بار سے زیادہ دھونے کی مما نعت: تین مرتبہ سے زیادہ دھونا وسواسی قسم کے لوگوں کا کام ہے۔ انھیں یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ اعضاے وضو سے اگر کوئی چیز تین مرتبہ دھونے سے بھی زائل نہیں ہوتی تو وہ پچاس مرتبہ دھونے سے بھی زائل نہیں ہوگی۔ مسلسل کتنی کتنی دیر تک پانی بہانے بلکہ ضائع کرتے رہنے سے کیا حاصل؟ پھر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فعل سے منع کیا ہے۔ محدّثین کرام رحمہم اللہ نے تین مرتبہ سے زیادہ اعضاے وضو کو دھونے کے مکروہ ہونے کے باقاعدہ باب قائم کیے ہیں اور ان کی دلیل وہ حدیث ہے، جسے امام ابو داود، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ اور احمد نے روایت کیا ہے۔ حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ اور دادا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کا طریقہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین مرتبہ اعضاے وضو کو دھونے کی تعلیم فرمائی اور آخر میں فرمایا: [1] نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۲۰۲۔ ۲۰۳) [2] نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۲۰۳) [3] مرعاۃ المفاتیح (۱؍ ۴۵۸)