کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 189
(( ھٰکَذَا کَانَ وُضُوْئُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم )) [1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح تھا۔‘‘ اس حدیث میں کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا ذکر موجود ہے، مگر ناک جھاڑنے کا ذکر نہیں، جبکہ اس سے پہلی حدیث میں جھاڑنے کا ذکر تھا، ناک میں پانی چڑھانے کا لفظ نہیں تھا۔ البتہ صحیح بخاری و مسلم ہی کی ایک دوسری حدیث میں ہے: (( فَمَضْمَضَ وَ اسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا بِثَلَاثِ غُرُفَاتٍ مِنْ مَّائٍ )) [2] ’’انھوں نے تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور ناک کو جھاڑ کر صاف کیا، پانی کے صرف تین چلوؤں سے۔‘‘ اس حدیث سے معلوم ہواکہ ایک ہی چلو سے کلی بھی کی اور اسی سے ناک میں پانی چڑھاکر اسے صاف بھی کیا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ پانی کا چلو لے کر اس کے آدھے حصے کو کلی کے لیے منہ میں ڈال لیا جا ئے اور بقیہ آدھے کو ناک میں چڑھایا جائے اور اسے جھاڑ کر صاف کیا جائے۔ یہ عمل تین مرتبہ دہرایا جائے۔ اعضاے وضو کو دھونے کی تعداد: اعضاے وضو کو کتنی مرتبہ دھویا جائے؟ اس سلسلے میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین قسم کی احادیث صحیح بخاری و مسلم میں مروی ہیں۔ تین تین بار دھونے کی، دو دو بار دھونے کی اور ایک ایک ہی بار دھو نے کی بھی احادیث موجود ہیں۔ مثلاً صحیح مسلم اور مسندِ احمد میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے مدینہ منورہ کے قریب ایک مقام ’’مقاعد‘‘ پر وضو کرتے ہوئے فرمایا: (( أَلَا أُرِیْکُمْ وُضُوْئَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا )) [3] ’’کیا میں تمھیں نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں؟ پھر انھوں نے تمام اعضا کو تین تین بار دھویا۔‘‘ [1] صحیح البخاري مع الفتح (۹۱) صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۲۳) مشکاۃ المصابیح بتحقیق الألباني (۱؍ ۱۲۵۔ ۱۲۶) [2] صحیح البخاري مع الفتح، رقم الحدیث (۱۹۲) صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۲۳۔ ۱۲۴) مشکاۃ المصابیح أیضاً۔ [3] صحیح مسلم مع شرح النووي (۲؍ ۳؍ ۱۱۴)