کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 188
بھی مذکور ہے۔ بعض روایات میں تین مرتبہ سر کا مسح کرنے کا ذکر آیا ہے اور بعض میں دو مرتبہ مسح کا ذکر، وہ احادیث ضعیف ہیں۔ [1] مسحِ راس کے بعد حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے وضو کو بیان کرنے والے راوی فرماتے ہیں: (( ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَہُ الْیُمْنٰی ثَلَاثًا، ثُمَّ الْیُسْریٰ ثَلَاثًا، (وَقَالَ:) رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوْئِيْ ھٰذَا (فَقَالَ:) مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوْئِیْ ھٰذَا، ثُمَّ یُصَلِّيْ رَکْعَتَیْنِ، لَا یُحَدِّثُ نَفْسَہٗ فِیْھَا بِشَیْئٍ، غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ )) [2] ’’پھر انھوں نے تین مرتبہ اپنا دایاں پاؤں دھویا۔ پھر تین مرتبہ ہی بایاں دھویا۔ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور فرمایا: جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر دو رکعتیں ایسے خشوع و خضوع سے پڑھے، جن کے دوران میں وہ اپنے آپ سے باتیں نہ کرے (یعنی آر پار کی سوچوں میں نہ کھو جائے) تو اس کے پہلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔‘‘ صحیح بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ہمارے سامنے نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کی کیفیت عملی طور پر بیان کریں تو انھوں نے پانی کا بر تن منگوایا، اس سے اپنے ہاتھوں پر پانی انڈیل کر انھیں تین مرتبہ دھویا۔ پھر اپنا (دایاں) ہاتھ پانی کے برتن میں ڈال کر اس سے پانی نکالا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ یہ فعل تین مرتبہ دہرایا۔ پھر ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور تین مرتبہ منہ دھویا۔ پھر ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور کہنیوں سمیت اپنے دونوں ہاتھوں کو دو دو مرتبہ دھویا۔ پھر ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنے سرکا مسح کیا (اور وہ یوں کہ) اپنے دونوں ہاتھوں کو سرکے اگلے حصے سے پچھلے حصے تک (بالوں پر پھیرتے ہوئے) لے گئے۔ پھر اپنے دونوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا اور فرمایا: [1] فتح الباري (۱؍ ۲۶۰) نیل الأوطار (۱؍ ۱؍ ۱۸۶۔ ۱۸۸) عون المعبود، تہذیب السنن لابن القیم۔ [2] صحیح البخاري مع الفتح (۱۵۹) صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۰۷۔ ۱۰۸) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۹۷) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۸۳) منتقی الأخبار مع نیل الأوطار (۱؍ ۲؍ ۱۳۹) مشکاۃ المصابیح مع المرعاۃ (۱؍ ۳۷۰۔ ۳۷۱)