کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 187
حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: (( إِنَّہُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلٰی یَدَیْہِ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْھَہٗ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی إِلَی الْمِرْفَقِ ثَلَاثاً، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہ الْیُسْریٰ إِلَی الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہٖ )) [1] ’’انھوں نے وضو کرتے وقت پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی بہایا (یعنی اپنے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا) پھر انھوں نے تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ہی ناک کو جھاڑا۔ پھر تین مرتبہ اپنا منہ دھویا۔ پھر تین مرتبہ کہنی تک اپنا دایا ں ہاتھ دھویا۔ پھر تین مرتبہ ہی کہنی تک اپنا بایاںہاتھ۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔‘‘ تمام اعضاے وضو کے دھونے کے ذکر کے ساتھ ساتھ ہی تین تین بار کے الفا ظ بھی وارد ہیں، مگر سر کے مسح کے ساتھ تین بار کا ذکر نہیں، بلکہ صحیحین میں اس حدیث کے جتنے بھی طُرق ہیں، ان میں سے کسی میں بھی مسح کی تعداد مذکور نہیں ہے۔ لہٰذا سر کا مسح صرف ایک مرتبہ ہی کرلینا کافی ہے اور یہی جمہور علماے امت کا مسلک ہے۔[2] اس بات کی تائید بخاری شریف کی ایک دوسری حدیث سے بھی ہوتی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: (( فَمَسَحَ رَأْسَہٗ فَأَقْبَلَ بِھِمَا وَأَدْبَرَ مَرَّۃً وَّاحِدَۃً )) [3] ’’انھوں نے اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے دونوں ہا تھوں کو اپنے سر کے اگلے حصے سے پھیرتے ہوئے پچھلے حصے تک لے گئے اور پیچھے سے آگے کو لائے اور یہ (مسح) ایک ہی بار کیا۔‘‘ نیز اس بات کا ثبوت سنن اربعہ، [4]مسند احمد، طبرانی اوسط اور سنن بیہقی کی متعدد احادیث میں [1] صحیح البخاري مع الفتح، رقم الحدیث (۱۵۹) صحیح مسلم مع شرح النووي (۱؍ ۳؍ ۱۰۵۔ ۱۱۰) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۹۷) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۸۲۔ ۸۳) [2] المرعاۃ (۱؍ ۲۷۱) [3] صحیح البخاري مع الفتح، رقم الحدیث (۱۸۶) مشکاۃ المصابیح مع المرعاۃ (۱؍ ۴۵۷) [4] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۰۲) صحیح الترمذي، رقم الحدیث (۳۱۔ ۴۴) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۹۰) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۳۵۔ ۴۳۶۔ ۴۳۷)