کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 186
صحیح مسلم، سنن ترمذی اور موطا امام مالک میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’جب کوئی مومن مسلمان وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کی تمام خطائیں مٹ جا تی ہیں، جو وہ شخص اپنی آنکھوں سے کرتا ہے۔ پھر جب وہ ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے تمام وہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں، جو اُس نے ہاتھوں کے ساتھ کیے ہوتے ہیں، پھر جب وہ پاؤں دھوتا ہے تو وہ تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، جن کی طرف ان پاؤں سے چل کر گیا تھا۔‘‘ (( حَتَّیٰ یَخْرُجَ نَقِیًّا عَنِ الذُّنُوْبِ )) [1] ’’یہاں تک کہ وہ شخص (وضو کے ساتھ) تمام گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔‘‘ صحیح مسلم، سنن ابی داود اور نسائی میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَتَوَضَّأُ فَیُحْسِنُ وُضُوْئَ ہٗ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیُصَلِّيْ رَکْعَتَیْنِ، مُقْبِلًا عَلَیْھِمَا بِقَلْبِہٖ وَوَجْھِہٖ إِلَّا وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ )) [2] ’’جو مسلمان اچھی طرح وضو کر کے دورکعت نماز ادا کرتا ہے، جس کے دوران میں تو جہ الیٰ اللہ اور قلبی یک سوئی اختیار کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے لیے جنت واجب کردیتا ہے۔‘‘ ایسے ہی بعض دیگر احادیث میں ایک ایک اعضاے وضو کے پانی کے ساتھ پاک ہو نے کا ذکر پایا جاتا ہے، جس سے وضو کی فضیلت وبرکت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ تمام فضائل و برکات صرف اُسی وقت حاصل ہوں گی، جب وضو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے مسنون طریقے سے کیا جائے اور اس میں اپنی طرف سے کو ئی کمی بیشی نہ کی جائے۔ وضو کا مسنون طریقہ: وضو کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ اس سلسلے میں صحیح بخاری و مسلم، سنن ابی داود اور سنن نسائی میں [1] صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۲۲۔ ۱۳۳) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲) الموطأ مع المسوی (۱؍ ۶۹ طبع دار الکتب العلمیۃ) الفتح الرباني (۱؍ ۲۰۵۔ ۲۰۶) مشکاۃ المصابیح مع المرعاۃ (۱؍ ۳۶۹) [2] صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۸۔ ۱۱۹) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۸۰۱) و صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۴۷) مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۳۷۲)