کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 183
’’جس شخص کا وضو ٹوٹ جائے (یا سرے سے وضو ہی نہ ہو) اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا، تا وقتیکہ وہ وضو نہ کرلے۔‘‘ ایسے ہی صحیح مسلم، سنن ترمذی و ابن ماجہ اور مسندِ احمد میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَا تُقْبَلُ صَلَاۃٌ بِغَیْرِ طُھُوْرٍ )) [1] ’’طہارت اور وضو کے بغیر کوئی نماز قبول نہیں کی جاتی۔‘‘ یہی حدیث سنن ابی داود، نسائی اور ابن ماجہ میں ابو ملیح کے والد سے اور سنن ابن ماجہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ اور ابو بکرہ رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [2] فضیلتِ وضو: وضو کی فضیلت کے بارے میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد ارشادات ثابت ہیں، جن میں سے ایک صحیح مسلم اور مسندِ احمد میں حضرت ابو امامہ باہلی، حضرت عمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہما ’’رابع أربعۃ في الاسلام‘‘ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: (( أَخْبِرْنِيْ عَنِ الْوُضُوْئِ )) ’’مجھے وضو کے بارے میں بتائیے!‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ یَقْرَبُ الْوُضُوْئَ ثُمَّ یَتَمَضْمَضُ وَیَسْتَنْشِقُ وَیَسْتَنْثِرُ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَاہُ مِنْ فَمِہٖ وَخَیَا شِیْمِہِ مَعَ الْمَآئِ حِیْنَ یَسْتَنْثِرُ، ثُمَّ یَغْسِلُ وَجْھَہٗ کَمَا أَمَرَہُ اللّٰہُ تَعَالٰی إِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا وَجْھِہٖ مِنْ أَطْرَافِ لِحْیَتِہٖ مَعَ الْمَآئِ، ثُمَّ یَغْسِلُ یَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا یَدَیْہِ مِنْ أَطْرَافِ أَنَامِلِہٖ، ثُمَّ یَمْسَحُ رَأْسَہٗ إِلَّا خَرَجَتْ خَطَایَا رَأْسِہٖ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِہٖ مَعَ الْمَآئِ، ثُمَّ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ کَمَا أَمَرَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ إِلَّا [1] صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۰۲) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۷۲) حوالہ جاتِ سابقہ أیضاً۔ [2] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۵۳) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۳۵) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث ( ۲۷۳۔ ۲۷۴۔ ۲۷۱) المرعاۃ (۱؍ ۳۸۴)