کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 180
یہیں یہ ضروری وضاحت بھی سن لیں کہ سنن ابی داود میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: (( وُقِّتَ لَنَا حَلْقَ الْعَانَۃِ وَتَقْلِمَ الْأَظْفَارِ وَقَصَّ الشَّارِبِ وَنَتْفَ الْإِبِطِ أَرْبَعِیْنَ یَوْماً مَرَّۃً )) [1] ’’ہمارے لیے وقت مقرر کیا گیا ہے کہ ہم (زیادہ سے زیادہ) ہر چالیس دن میں ایک مرتبہ ضرور زیرِ ناف بالوں کو صاف کریں، ناخن تراشیں، مونچھیں کاٹیں اور بغلوں کے بال اُکھاڑیں۔‘‘ مسواک کی اہمیت یہی نہیں کہ وہ امورِ فطرت میں سے ہے، بلکہ صحیح بخاری میں تعلیقاً اور سنن نسائی، صحیح ابن حبان و ابن خزیمہ، سنن دارمی، مسندِ احمد، مسندِ شافعی اور سنن کبری بیہقی میں موصولاً مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( اَلسِّوَکُ مَطْھَرَۃٌ لِّلْفَمِ، مَرْضَاۃٌ لِلرَّبِّ )) [2] ’’مسواک منہ کے لیے طہارت کا باعث اور اللہ تعالیٰ کی خو شنودی کا سبب ہے۔‘‘ معجم طبرانی الاوسط کی ایک ضعیف روایت میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں: (( مَجْلَاۃٌ لِلْبَصَرُ )) [3] ’’نظر کو تیز کر تی ہے۔‘‘ معلوم ہوا کہ صرف سو کر اٹھنے کے بعد ہی نہیں، بلکہ ہر وضو سے پہلے مسواک کرلینا باعثِ اجر و ثواب اور ذریعہ فضیلت ہے، حتیٰ کہ اگر روزہ ہو تو جمہور اہلِ علم کے نزدیک روزے کی حالت میں بھی ہر وقت مسواک کی جاسکتی ہے، اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ [4] نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو لکڑی کی اور وہ بھی پیلو کی لکڑی کی مسواک کیا کر تے تھے ، جیسا کہ صحیح ابن حبان، مسند احمد، ابو یعلیٰ، بزار، طیالسی، حلیۃ الاولیا ابو نعیم اور طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [1] سنن أبي داود (۲؍ ۴؍ ۸۴ طبع مکتبۃ الریاض الحدیثۃ) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۵۳۸) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۴) صحیح سنن الترمذي (۲۲۱۵۔ ۲۲۱۶) سنن ابن ماجہ (۲۹۲) [2] صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۵) صحیح البخاري تعلیقاً مع الفتح (۴؍ ۱۸۷) مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۲۲) [3] إرواء الغلیل (۱؍ ۱۰۵) مگر اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ [4] نیل الأوطار (۱؍ ۱۰۷۔ ۱۰۸)