کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 179
’’اگر میں اپنی امت کے لیے باعثِ مشقت نہ سمجھتا تو حکم دے دیتا کہ نمازِ عشا تاخیر سے ادا کریں اور ہر نماز سے قبل مسواک کیا کریں۔‘‘ مسواک کے طبی اور روحانی فوائد: مسواک کو امورِ فطرت میں شمار کیا گیا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری ومسلم شریف کی ایک متفق علیہ اور سنن کی حدیث میں پانچ امورِ فطرت شمار کرتے ہوئے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( اَلْفِطْرَۃٌ خَمْسٌ: اَلْخِتَانُ وَالْإِسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّوَارِبِ، وَتَقْلِیْمُ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ )) [1] ’’امورِ فطرت پانچ ہیں: 1ختنہ کرنا۔ 2 زیرِ ناف بالوں کو صاف کرنا۔ 3مونچھوں کو کاٹنا۔ 4ناخن تراشنا۔ 5بغلوں کے بال اکھاڑنا۔‘‘ جب کہ صحیح مسلم شریف اور سنن میں مزید تفصیل بھی مذکور ہے اور ایک ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں دس امور کو فطرت قرار دیا گیا ہے۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَۃِ: قَصُّ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَائُ اللِّحْیَۃِ، وَالسِّوَاکُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَآئِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَۃِ، وَانْتِقَاصُ الْمَآئِ، قَالَ الرَّاوِي: وَنَسِیْتُ الْعَاشِرَۃَ إِلَّا أَنْ تَکُوْنَ الْمَضْمَضَۃُ )) [2] ’’دس امورِ فطرت میں سے ہیں: 1مونچھوں کو کاٹنا۔ 2ڈاڑھی بڑھانا۔ 3مسواک کرنا۔ 4ناک میں پانی چڑھانا۔ 5ناخن تراشنا۔ 6انگلیوں کے بنیادی جوڑوں (یعنی ہاتھوں) کو دھونا۔ 7بغلوں کے بالوں کو اکھاڑنا۔ 8زیرِ ناف بالوں کو اکھاڑنا۔ 9استنجا کرنا (پانی سے)۔ راویِ حدیث فرماتے ہیں کہ دسویں چیز میں بھول گیا ہوں، غالباً وہ کلی کرنا تھی۔‘‘ [1] صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۴۶) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۹) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۲۱۳) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۹۲) إرواء الغلیل (۱؍ ۱۱۲) [2] صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۴۷) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۳) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۲۱۴) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۹۳) إرواء الغلیل (۱؍ ۱۲۱)