کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 174
تو انھوں نے جواباً عرض کی کہ ہم نماز کے لیے وضو کر تے ہیں، جنابت سے غسل کر تے ہیں اور (ڈھیلوں کے استعمال کے باوجود) پانی سے استنجا کرتے ہیں۔ اس پر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( فَہُوَ ذَاکَ، فَعَلَیْکُوْہُ )) [1] ’’تو پھر یہی وجۂ تعریف ہے، لہٰذا تم اس طریقے پر کار بند رہو۔‘‘ یہ روایت سنن ابی داود و ترمذی میں قدرے مختصر مروی ہے۔[2] ڈھیلوں کے استعمال کے باوجود بعد میںپانی سے استنجا کرنے کے الفاظ مسند بزار میں مروی ہیں۔ سنن ابن ماجہ والی روایت کی سند تو ضعیف ہے، مگر اس کے کئی شواہد موجود ہیں، جن سے اس ضعف کا کسی حد تک ازالہ ہو جاتا ہے۔ [3] دوسری وضاحت: اس سلسلے میں دوسری وضاحت یہ ہے کہ ڈھیلوں اور پانی دونوں سے طہارت کی فضیلت حاصل کرنے یا کسی عادت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بعض لوگ طہارت خانوں میں پانی ہونے کے باوجود ڈھیلے بھی ساتھ لے جاتے ہیں، جس سے طہارت خانوں میں غلاظت و گندگی پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات پانی کی نکاسی میں رکاوٹ کا باعث بن کر بدبو پھیلانے کا سبب بھی بنتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل بہرحال ٹھیک نہیں، جہاں پانی میسر ہو، وہاں صرف پانی ہی پر اکتفا کرنا سنت ہے اور اسی میں کفایت ہے، تکلفات مطلوب نہیں ہیں، خصوصاً جبکہ وہ دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بھی بنتے ہوں۔ تیسری اہم وضاحت: اب یہاں ذرا معلمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے سکھلائے ہوئے ان تمام آداب کو دوبارہ ذہن میں لائیں تو بلا خوفِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ حیاتِ انسانی کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں ہو سکتا، جس کے بارے میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات موجود نہ ہوں۔ یہ اسلامی تعلیمات کی ہمہ گیری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ صحیح مسلم اور مسند احمد (واللفظ لہ) میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ارشاد سے پتا چلتا ہے کہ انھیں کسی مشرک نے از راہِ مذاق کہا تھا: [1] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۵۵) [2] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۴) [3] تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: تحقیق مشکاۃ المصابیح للألباني (۱؍ ۱۱۸) المنتقی مع النیل (۱؍۱۰۰۔ ۱۰۱)