کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 171
دو ازدہم: اسی سلسلے کی بارھویں ہدایت یہ ہے کہ جب قضاے حاجت کے بعد وضو کیا جائے تو وضو سے فارغ ہونے کے بعد شرم گاہ پر پانی کا چھینٹا مار دیا جائے، کیوں کہ سنن ابی داود و نسائی میں مروی ہے: (( کَانَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِذَا بَالَ تَوَضَّأَ، وَنَضَحَ فَرْجَہٗ )) [1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی پیشاب کیا اور وضو کیا تو اپنی شرم گاہ پر چھینٹا مارا۔‘‘ ایسے ہی مسند احمد، سنن دارقطنی اور ابن ماجہ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے اس چھینٹا مارنے کی تائید ہوتی ہے، جس میں مذکور ہے: ’’جب پہلی مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر وضو اور نماز سکھلانے آئے اور وضو سے فارغ ہوئے تو انھوں نے پانی کا چلو لیا اور شرم گاہ پر چھینٹا مارا۔‘‘ [2] چھینٹا مارنے کا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جنھیں پیشاب کے بعد قطرہ آنے کی شکایت ہو، وہ دور ہو جاتی ہے، ذہن سے شک دور ہو جاتا ہے اور آدمی پو رے اطمینان سے نماز ادا کر سکتا ہے۔ سیز دہم: قضاے حاجت کے آداب میں سے تیرھواں اور آخری ادب یہ ہے کہ رفعِ حاجت کے لیے بیٹھنے کا انداز یہ ہونا چاہیے کہ دایاں پاؤں کھڑا ہو اور بایاں حسبِ عادت رکھا ہو اور اس پر ٹیک لگائی ہو۔ اس سلسلے میں معجم طبرانی کبیر، مستدرکِ حاکم اور سنن بیہقی میں سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت بھی مروی ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں: (( اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم أنْ نَّتَوَکَّأَ عَلَی الْیُسرٰی و اَن نُّنْصِبَ الیُمْنٰی )) [3] ’’ہمیں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ (رفعِ حاجت کے وقت) ہم اپنا دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور بائیں پر ٹیک لگائیں۔‘‘ [1] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۵۲) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۰) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۶۱) مشکاۃ المصابیح و صححہ الألباني (۱؍ ۱۱۶ لشواہدہ) [2] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۶۲) السلسلۃ الضعیفۃ للألباني، رقم الحدیث (۳۱۲) مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۱۷۔ ۱۱۸) [3] المعجم الکبیر (۷؍ ۱۶۰۔ ۱۶۱) و الأوسط (۱؍ ۳۳۹)