کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 169
’’اور اس سے بھی منع فرمایا کہ ہم کسی جانور کے فضلے (گوبر یا لید وغیرہ) سے یا ہڈی سے استنجا کریں۔‘‘ سنن ابی داود، نسائی، ابن ماجہ، دارمی اور صحیح ابی عوانہ میں بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تین ڈھیلے استعمال کرنے کا حکم اور گوبر و ہڈی سے استنجا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ اسی معنیٰ کی ایک حدیث سنن ترمذی و نسائی میں بھی مروی ہے۔ [1] سنن ترمذی شریف میں ان کے ساتھ استنجا نہ کرنے کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے: (( فَإِنَّہٗ زَادُ إِخْوَانِکُمْ مِنَ الْجِنِّ )) [2] ’’یہ چیزیں تمھارے جن بھائیوں کی خوراک ہیں۔‘‘ سنن ابو داود و نسائی میں ایک ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تو بڑی سرزنش فرمائی ہے: (( مَنْ عَقَدَ لِحْیَتَہٗ اَو تَقَلّدَ وَتَراً اَوِ استَنْجَیٰ بِرَجِیْعِ دَابَّۃٍ أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّداً بَرِیٌٔ مِّنْہٗ )) [3] ’’جس نے اپنی ڈاڑھی کو گرہ لگائی یا تندی کو لٹکایا یا کسی جانور کے فضلے یا ہڈی سے استنجا کیا تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس شخص سے بری ہیں۔‘‘ دہم: اس سلسلے میں دسویں ہدایت یہ ہے کہ استنجا کے لیے دائیں ہاتھ کو ہر گز استعمال نہ کیا جائے بلکہ بائیں ہاتھ سے کیا جائے۔ کیوں کہ صحیح مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا: (( أَنْ نَّسْتَنْجَیٰ بِالْیَمِیْنِ )) [4] ’’ہمیں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ہم دائیں ہاتھ سے استنجا کریں۔‘‘ [1] صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۵) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۸۔ ۳۹) [2] صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۷) مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۱۳) [3] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۷) مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۱۳۔ ۱۱۴) [4] صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۵۲) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۴۸) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۱۶) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۵) مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۰۹)