کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 168
’’لوگوں کی گزر گاہ یا راستے اور اس جگہ قضاے حاجت کے لیے بیٹھنا، جہاں وہ سائے کے لیے بیٹھتے ہوں۔‘‘ ہشتم: آٹھویں بات یہ کہ کہیں ٹھہرے ہوئے پانی میں ہر گز پیشاب نہ کیا جائے، کیوں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ چنانچہ صحیح سنن نسائی، سنن ابن ماجہ اور مسندِ احمد میں مروی ہے: (( اَنَّہٗ نَہٰی أَنْ یُّبالَ فِيْ الْمَآئِ الرَّاکِدِ )) [1] ’’نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ صحیح مسلم اور سنن ابی داود کے الفاظ ہیں: (( لَا یَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِيْ الْمَآئِ الدَّائِمِ )) [2] ’’تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے۔‘‘ نہم: بیت الخلاء میں قضاے حاجت کی شکل تو ظاہر ہے کہ پانی ساتھ موجود ہوگا، لیکن اگر کبھی کھلی جگہ پر رفعِ حاجت کی نوبت آجائے تو کم ازکم تین ڈھیلے استعمال میں لائے جائیں، کیوں کہ صحیح مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: (( نَہَانَا [یَعْنِي الرَّسُوْلَ صلی اللّٰه علیہ وسلم ] أَنْ نَّسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ )) ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تین ڈھیلوں ( پتھروں) سے کم کے ساتھ طہارت کرنے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ آگے ڈھیلوں کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: (( أَوْ أَنْ نَّسْتَنِجی بِرَجِیْعٍ أَوْ بِعَظْمٍ )) [3] [1] صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۴) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۴۳) [2] صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۸۷) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۶۲۔ ۶۳) [3] صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۵۲) و صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۵) و سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۱۶) مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۰۹۔ ۱۱۰)