کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 167
سے پرہیز نہ کرنا گناہِ کبیرہ اور عذابِ الٰہی کو دعوت دینے والی بات ہے، کیوں کہ صحیح بخاری و مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِنَّہُما لَیُعَذَّ بَانِ وَ مَا یُعَذَّ بَانِ فِیْ کَبِیْرٍ وَلٰکِنَّہٗ کَبِیْرٌ )) ’’ان دو نوں قبروں والوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور یہ عذاب بھی انھیں بظاہر کسی بڑے گناہ پر نہیں ہو رہا، لیکن وہ کبیرہ ہی ہے۔‘‘ آگے ان دونوں کے عذاب کے اسباب و موجبات بتاتے ہوئے فرمایا: (( أَمَّا أَحَدُھُمَا فَکَانَ لَا یَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ (وَفِيْ رَوَایَۃِ لِّمُسْلِمُ: لَا یَسْتَنْزِہُ مِنَ الْبَوْلِ) وَأَمَّا الْآخِرُ فَکَانَ یَمْشِيْ بِالنَّمِیْمَۃِ )) [1] ’’ان میں سے ایک کا گناہ تو یہ ہے کہ وہ پیشاب کے چھینٹوں سے پرہیز نہیں کیا کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کی عادت میں مبتلا تھا۔‘‘ لہٰذا اگر لیٹرین میں پیشاب کیا جائے تو چھینٹوں سے بچنے کی پوری کو شش کی جائے اور اگر کہیں باہر اس کی نوبت آجائے تو نرم و پست جگہ تلاش کر نی چاہیے، تاکہ چھینٹوں سے بچا جاسکے اور کھڑے ہو کر پیشاب کر نے میں بھی چھینٹوں کا خدشہ ہوتا ہے، لہٰذا اس سے بھی پرہیز کیا جائے۔ ہفتم: قضاے حاجت کے آداب میں سے ساتویں بات یہ ہے کہ کسی ایسی جگہ بیٹھنا موجبِ لعنت ہے، جو لوگوں کی گزر گاہ، عام راستہ یا بیٹھنے کی جگہ ہو، کیوں کہ صحیح مسلم اور سنن ابی داود میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( اِتَّقُوْا اللَّا عِنَیْنِ)) ’’دو موجبِ لعنت کا موں سے بچو۔‘‘ پوچھا گیا کہ وہ کون کون سے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اَلَّذِيْ یَتَخَلّٰی فِيْ طَرِیْقِ النَّاسِ أَوْ ظِلِّھِمْ )) [2] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۱۶) صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۲۰۱۔ ۲۰۰) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۵) صحیح سنن الترمذي (۶۰) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۹۵۶) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۴۷) مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۱۰) [2] صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۶۱) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۰)