کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 164
دوم: دوسری بات یہ کہ اس وقت اپنے پاس کو ئی ایسی چیز نہیں رکھنی چاہے، جس پر اللہ کا کوئی نام لکھا ہوا ہو، کیوں کہ یہ باعثِ توہین ہے۔ سنن اربعہ اور مسند احمد میں مروی ہے: (( کَانَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلَائَ نَزَع خَاتَمَہُ )) [1] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو اپنی انگوٹھی اتار کر جاتے۔‘‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی میں (( مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اﷲ )) کے کلمات نقش تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مہر لگانے کا کام لیا کرتے تھے۔ انگو ٹھی اتار کربیت الخلاء میں جانے والی اس روایت کو بعض محدّثین نے ضعیف قرار دیا ہے اور بعض نے اسے صحیح کہا ہے۔ [2] سند کے اعتبار سے اس کی حیثیت چاہے کیسی بھی ہے، مفہوم کے اعتبار سے یہی درست اور قرینِ احتیاط ہے، تاکہ اسمِ جلالت کی توہین کا کوئی پہلو نہ نکلے اور اسی سے ایسے لاکٹ کا حکم بھی واضح ہو جاتا ہے، جس میں لفظِ ’’اللہ‘‘ نقش ہوتا ہے۔ اوّل تو ایسا لاکٹ عورت یا بچی کے لیے خریدنا ہی نہیں چاہیے، کیوں کہ اس کے احترام کو کما حقہٗ ادا کرنے میں مشکل ہو جا تی ہے اور اگر بس وہی لینا ہے تو پھر اس کے احترام و مقام کا پورا پورا خیال رکھنا ہوگا اور حیض و نفاس کے ایام، اوقاتِ جماع اوربیت الخلاء میں داخل ہونے سے قبل اسے اتارنا ہوگا۔ سوم: قضاے حاجت کے آداب میں سے تیسری بات یہ ہے کہ بیت الخلاء میں داخل ہونے سے قبل وہ دعا مانگی جائے، جس کی نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی ہے۔ چنانچہ صحاح و سنن اور معاجم و مسانید میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں داخل ہونے سے قبل یہ دعا مانگا کرتے تھے: [1] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۹) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۷۴۶) سنن النسائي، باب نزع الخاتم عند دخول الخلاء، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۰۳) المنتقی مع النیل (۱؍ ۷۳) ضعیف الجامع (۴۳۹۵) [2] تفصیل کے لیے دیکھیں: نیل الأوطار (۱؍ ۷۳۔ ۷۴) تحقیق المشکاۃ للألباني (۱؍ ۱۱۱)