کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 156
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے اس کی تفسیر سنن ابی داود میں یوں مروی ہے: ’’اِذَا أَصَابَہَا فِیْ أَوَّلِ الدَّمِ فَدِیْنَارٌ، وَ اِذَا أَصَابَہَا فِیْ انْقِطَاعِ الدَّمِ فَنِصْفُ دِیْنَارٍ‘‘ [1] ’’اگر حیض کی ابتدا میں جماع کر بیٹھے تو ایک دینار صدقہ کر ے اور اگر آخری ایام میں ہو تو نصف دینار۔‘‘ بعض ضعیف روایات سے پتا چلتا کہ اگر طاقت ہو تو ایک دینار صدقہ کرے اور اگر اس کی استطاعت نہیں تو نصف دینار صدقہ کرے۔[2] یہ سب روایات ضعیف ہیں، اس لیے بعض کے نزدیک صرف استغفار ہی کا فی ہے۔  [1] صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۳۸۔ ۱۹۰) الإرواء (۱؍ ۲۱۸) یہ روایت مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن صحیح اس کا موقوف ہونا ہے۔ [2] إرواء الغلیل (۱؍ ۲۱۸)