کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 153
نفاس کی مدت: نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے۔ احناف اور حنابلہ کا یہی مسلک ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی غالب احوال میں یہی حد مقرر کی ہے۔ [1] ان کا استدلال، سنن ابی داود، مستدرک حاکم اور سنن بیہقی میں حضرت امِّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ہے، جس میں وہ فرماتی ہیں: (( کَانَتِ الْمَرْأَۃُ مِنْ نِسَآئِ النَّبِیِّ ﷺ تَقْعُدُ فِیْ النِّفَاسِ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً )) [2] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سے کوئی عورت نفاس کی صورت میں (زیادہ سے زیادہ) چالیس دن تک بیٹھتی (یعنی نماز روزہ ترک کر تی) تھی۔‘‘ جبکہ سنن ابو داود، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی، دار قطنی، بیہقی، مسندِ احمد اور مستدرکِ حاکم میں اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: (( کَانَتِ النُّفَسَآئُ تَجْلِسُ عَلَیٰ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ أَرْبَعِیْنَ یَوْماً )) [3] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں نفاس والی عورتیں چالیس روز تک بیٹھتی (یعنی نماز روزہ ترک کرتی) تھیں۔‘‘ امام ترمذی رحمہ اللہ اپنی سنن میں فرماتے ہیں: صحابہ اور تابعین میں تمام اہلِ علم میں اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت چالیس دن تک نفاس میں نماز چھوڑ ے گی، سوائے اس کے کہ وہ اس سے پہلے ہی پاک ہو جائے۔ اس صورت میں خون بند ہونے پر وہ غسل کرکے نماز شروع کر دے گی اور اگر چالیس دن کے بعد بھی خون آتا رہے تو اکثر اہلِ علم کے نزدیک وہ نماز نہیں چھوڑے گی۔‘‘ [4] بعض حالات میں شافعیہ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت ساٹھ دن کہتے ہیں۔ [5]ساٹھ کی ہی ایک [1] المغني لابن قدامۃ (۳۰۸) [2] إرواء الغلیل (۱؍ ۲۲۲) وحسنہ، و صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۰۴) [3] سنن الترمذي مع التحفۃ (۱؍ ۴۲۸) صحیح أبي داود، رقم الحدیث (۳۰۴) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۲۰) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۶۴۸) المغني (۱؍ ۳۰۸) [4] سنن الترمذي مع التحفۃ (۱؍ ۴۲۹۔ ۴۳۰) صحیح سنن الترمذي (۱؍ ۴۶) [5] الفقہ علی المذاہب الأربعۃ (۱؍ ۱۳۲)