کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 152
کی سند ضعیف ہے۔ کم ازکم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن مدتِ حیض پر دلالت کر نے والی ایک مرفوع حدیث بھی حضرت واثلہ بنت اسقع رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، مگر وہ ضعیف اور ناقابلِ استدلال ہے۔ [1] سنن ابی داود، ترمذی، ابن ماجہ، دار قطنی، بیہقی، مستدرکِ حاکم، مسندِ احمد اور معانی الآثار طحاوی میں حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کی حدیث میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کی مدت چھے یا سات دن مقرر فرمائی ہے۔[2] حقیقت تو یہ ہے کہ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ کے بقول حیض کا ذکر مطلق وارد ہوا ہے۔ شریعت اور لغت میں اس کے قلیل و کثیر کی کوئی تحدید نہیں آئی، لہٰذا اس معاملے میں عادت اور عرفِ عام کی طرف رجوع کرنا ہی واجب ہے اور ایسی عورتیں بھی پائی گئی ہیں، جو صرف ایک ہی دن کے لیے حائضہ ہوتی ہیں، بعض مسلسل پندرہ دن اور کوئی دو دن، حتیٰ کہ امام ابن المنذر نے نقل کیا ہے کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ہمارے یہاں ایک ایسی عورت بھی ہے، جسے صبح حیض آتا ہے اور شام کو وہ پاک ہو جاتی ہے۔‘‘ [3] اس سے معلوم ہوا کہ عرف ہی کا اعتبار ہوگا، کسی حدبندی کی پابندی واجب نہیں، کیوں کہ شریعت حد بندی سے خاموش ہے، لہٰذا علاقے و قبیلے کا عر ف ہی معتبر ہے۔[4] نفاس: بچے کے پیدا یا ساقط ہونے کے بعد آنے والے خون کی کم از کم مدت کوئی نہیں، بلکہ جب بھی خون بند ہو جائے، نفاس کی مدت ختم ہو جاتی ہے اور میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات کی ممانعت ختم ہو جاتی ہے۔ البتہ مستحب یہ ہے کہ چالیس دن تک ازدواجی تعلقات سے پرہیز کیا جائے۔ [5] لیکن اس استحباب کی کوئی صریح دلیل نہیں ہے۔ [6] [1] البدایۃ لابن رشد (۱؍ ۷۲۔ ۷۳) المغني (۱؍ ۲۷۶۔ ۲۷۷) الفقہ علی المذہب الأربعۃ (۱؍ ۱۲۸) [2] إرواء الغلیل (۱؍ ۲۰۲) حسنہ الترمذي مع التحفۃ (۱؍ ۳۹۶۔ ۳۹۷) [3] المغني لابن قدامۃ (۱/ ۲۲۵) [4] الروضۃ الندیۃ مع شرحہ الدرر البھیۃ (۱؍ ۶۲) دار المعرفۃ بیروت۔ [5] المغني (۱؍ ۳۰۹) [6] اگر بچہ خشک پیدا ہو جائے اور خون بالکل ہی نہ آئے تو عورت غسل کے بعد نماز شروع کردے گی۔ دیکھیں: بدایۃ المجتہد۔