کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 145
کرتے ہوئے فرمایا ہے: {فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّھِّرِیْنَ} ’’اُس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں ہی کو پسند کرتا ہے۔‘‘ صرف ان دو آیتوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسلام میں طہارت اور پاکیزگی کی بجائے خود کتنی اہمیت ہے۔ صحیح مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں تو ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( اَلطَّہُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ )) [1]’’طہارت و پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے۔‘‘ سنن ترمذی شریف کی ایک متکلم فیہ روایت میں مروی ہے: (( اَلطُّہُوْرُ نِصْفُ الْاِیْمَانِ )) [2] ’’طہارت نصف ایمان ہے۔‘‘ معلوم ہوا کہ طہارت و پاکیز گی ایمان کا ایک جزو اور اہم شعبہ ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی بے نظیر کتاب ’’حجۃ اﷲ البالغۃ‘‘ میں لکھا ہے: شریعت کے اگرچہ بہت سے ابواب ہیں اور ہر باب کے تحت سیکڑوں ہزاروں احکام ہیں، لیکن اپنی بے پناہ کثرت کے باوجود سب ان چار عناوین کے تحت آجاتے ہیں: 1طہارت۔ 2اِخبات۔ 3سماحت۔ 4 عدالت۔ گویا ان کے نزدیک شریعت کو کل چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، جن میں سے پہلا ایک چوتھائی حصہ صرف طہارت کو حاصل ہے، پھر انھوں نے ان چار اقسام کی الگ الگ حقیقت کئی صفحات میں بالتفصیل بیان کی ہے، جو قابلِ مطالعہ ہے اور آگے چل کر اَحکام و اَسرارِ طہارت کے بیان میں فرماتے ہیں کہ طہارت کی تین قسمیں ہیں: ایک حدث سے طہارت یعنی جن حالتوں میں غسل یا وضو واجب ہے، ان حالتوں میں غسل یا وضو کر کے شرعی طہارت و پاکیز گی حاصل کرنا۔ [1] مختصر صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۲۰) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۵۱۷) لیکن اس میں (( اَلْوُضُوْئُ شَطْرُ الْاِیْمَان )) کے الفاظ ہیں۔ مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۵۳) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۲۹۵۷) [2] حسنہ الترمذي، سنن الترمذي (۱۵۱۹) وقد تکلم علی سندہ الألباني، مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۹۷)