کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 144
طہارت کی اہمیت اسلام کی نظر میں نماز کی صحت و قبولیت کے لیے دیگر شرائط کے علاوہ طہارت بھی ایک اہم شرط ہے، کیوں کہ صحیح بخاری و مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( لَا تُقْبَلُ صَلاَۃٌ مِنْ أَحَدٍ حَتَّیٰ یَتَوَضَّأَ )) [1] ’’جب تک کوئی و ضو نہ کر لے، اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔‘‘ صحیح مسلم شریف کے الفاظ ہیں: (( لَا تُقْبَلُ صَلَاۃٌ بِغَیْرِ طُہُوْرٍ )) [2] ’’طہارت کے بغیر کوئی نماز قبول نہیں ہوتی۔‘‘ یاد رہے کہ ا سلام میں طہارت اور پاکیزگی کی حیثیت صرف یہی نہیں کہ یہ نماز یا دیگر عبادات کے لیے ہی لازمی شرط ہے، بلکہ طہارت تو بجائے خود بھی دین کا ایک شعبہ اور بہ ذاتِ خود مطلوب ہے۔ ہر وقت طہارت اور پاکیزگی کا خیال رکھنے والے لوگوں کو سورۃ البقرہ (آیت: ۲۲۲) میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: {اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ} ’’اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘ سورۃ التوبہ (آیت: ۱۰۸) میں مدینہ طیبہ کی قریبی بستی اور مسجد قبا والے لوگوں کی تعریف بیان [1] صحیح بخاري شریف مترجم اردو (۱؍ ۱۶۳) صحیح مسلم (۳؍ ۱۰۴) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۵۴) مشکاۃ المصابیح (۱؍ ۱۰۰) [2] صحیح مسلم مع شرح النووي (۳؍ ۱۰۲) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۵۳) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۱۳۵) لیکن اس میں (( لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ صَلَاۃً )) کے الفاظ ہیں۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۷۱) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۷۳۸۴)