کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 132
4۔خنزیر کا جھُوٹا، نجس اور ناپاک ہے: خنزیر کے سلسلے میں تو کِسی کا کوئی اختلاف نہیں کہ وہ نجسِ عین ہے اور اس کا جُھوٹا بھی نجس اور ناپاک ہے۔ [1] لہٰذا اس کی تفصیل میں جانے کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں۔ ایک غلط افواہ: البتہ یہاں ایک مشہُور ومعروف افواہ کی طرف اشارہ کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عموماً لوگ کہتے کہ خنزیر کا نام زبان پر نہیں لانا چاہیے، کیونکہ وہ نجسِ عین ہے اور اس کا نام زبان پر لانے سے اس شخص کی زبان چوبیس یا کتنے گھنٹے تک ناپاک رہتی ہے۔ یہ محض ایک گَپ، پیدل خبر، بے اصل اور من گھڑت بات ہے۔ قرآن وسنت سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ ویسے بھی مومن و مسلمان مَرد و زن جب جنابت اور حیض ونفاس کے اوقات و ایام میں بھی ناپاک نہیں ہوتے، جیسا کہ شروع کتاب میں مذکورصحاح وسنن کی احادیث سے ثابت ہے، تو پھر ایک نجس جانور کا نام لینے سے زبان کیسے ناپاک ہوجائے گی؟ مزید برآں قرآنِ کریم میں لفظِ خنزیر چار مقامات پر آیا ہے: سورۃ البقرہ (آیت ۱۷۳) سورۃ المائدہ (آیت: ۳) سورۃ الانعام (آیت: ۱۴۵) سورۃ النحل (آیت: ۱۱۵) اور پانچویں مقام سورۃ المائدہ (آیت: ۶۰) میں اسی لفظ خنزیر کی جمع کا صیغہ خنازیر آیا ہے۔ [2] اگر خنزیر کہنے سے زبان ناپاک ہوتی ہو تو پھر قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے والے کا کیا بنے گا؟ اسی طرح کتبِ احادیث میں سے صرف صحیح بخاری، سنن ابی داود، ترمذی، نسائی کی کتاب البیوع اور ابن ماجہ کی کتاب التجارات، سنن دارمی کی کتاب الاشربۃ، پھر صحیح بخاری شریف کی کتاب الانبیاء اور کتاب المظالم، صحیح مسلم کی کتاب المساقاۃ، کتاب الایمان، کتاب الشعر، کتاب القدر اور کتاب النکاح میں، سنن ترمذی کی کتاب اللباس اور کتاب الفتن میں، سنن ابی داود کی کتاب الصلاۃ، کتاب الادب، کتاب الاطعمۃ، کتاب الملاحم، کتاب الجہاد اور کتاب اللباس میں، سنن ابن ماجہ کی کتاب الادب، کتاب الفتن اور المقدمہ میں، موطا امام مالک کی کتاب الکلام، سنن دارمی کے مقدمہ اور [1] بدایۃ المجتہد للعلامہ ابن رُشد (۱/ ۱۰۹) [2] المعجم المفہرس لألفاظ القرآن الکریم (ص: ۲۴۶)