کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 130
حدیثِ ابی قتادہ رضی اللہ عنہ ہے۔ امام مالک نے بھی اس حدیث کو جیّد کہا اور اسے دیگر تمام محدثین سے کامل ترنص سے ذکر کیا ہے۔ [1] امام مالک رحمہ اللہ اور دیگر اہلِ مدینہ، لیث اور دیگر اہلِ مصر، اوزاعی اور دیگر اہلِ شام، ثوری اور دیگر اہلِ عراق: ابو یُوسف، محمد، ابو ثور، ابو عبید، علقمہ، ابراہیم نخعی اور عطا اور حسن بصری رحمہم اللہ بھی بِلّی کے جُھوٹے کو پاک کہتے ہیں۔ [2] حافظ ابو عُمر ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ متنازع فیہ اور اختلافی مسائل میں حجت صرف سنتِ رسُول صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہو سکتی ہے اور بلی کے جھوٹے کے پاک ہونے کے بارے میں صحیح حدیث وسنت ثابت ہوچکی ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے سوا تمام فقہاے امصار کا اسی حدیث پر اعتماد ہے۔ امام صاحب موصوف کو غالباً یہ حدیث نہیں پہنچی ہوگی اور کُتّے کے جُھوٹے والی حدیث پہنچ گئی ہوگی تو انھوں نے اُسے بھی اُسی پر قیاس کیا ہوگا، جب کہ حدیث و سنتِ رسُول صلی اللہ علیہ وسلم میں کتّے اور بِلّی کا فرق واضح ہو چکا ہے۔ [3] امام قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، فقہاے امصار رحمہم اللہ اور حجاز و عراق میں رہنے والے تمام تابعین کا یہی مسلک ہے کہ بِلّی کا جُھوٹا پاک ہے اور اس سے وضو کرلینے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ موطا امام مالک اور دیگر کتبِ حدیث میں حدیثِ ابی قتادہ رضی اللہ عنہ سے پتا چلتا ہے۔ [4] ایک روایت میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں: ’’جب کتا کسی برتن میں منہ ڈال جائے تو اسے سات مرتبہ دھو لو اور اگر بلّی منہ ڈال جائے، تو اسے ایک مرتبہ دھو لو۔‘‘ اس روایت میں جو بِلّی کے منہ ڈالنے سے ایک مرتبہ دھونے کا ذکر آیا ہے، وہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، بلکہ یہ الفاظ مُدرج ہیں۔ مُدرج اُن الفاظ کو کہا جاتا ہے، جو کسی راوی کی طرف سے روایت میں درج ہو جائیں۔ ممتاز حنفی عالم حضرت ملا علی قاری رحمہ اللہ نے ’’مرقاۃ شرح مشکاۃ‘‘ [1] سنن الترمذي مع التحفۃ (۱/ ۳۱۰۔ ۳۲۱) [2] بحوالہ تحفۃ الأحوذي (۱/ ۳۱۰) [3] تفسیر القرطبي (۷/ ۱۳/ ۴۷۔ ۴۸) [4] تفسیر القرطبي (۷/ ۱۳/ ۴۷)