کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 127
امام ابنِ قدامہ ان ائمہ کا یہ مسلک اور امام احمد کی دُوسری روایت، اسی طرح امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے دوسری روایت ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان جانوروں کا جھوٹا ان حضرات کے نزدیک بھی نجس اور ناپاک نہیں بلکہ پاک ہی تھا، ورنہ اس سے وضو کرنے کی اجازت ہی نہ ہوتی، صرف تیمم ہی کا کہتے۔‘‘ بہر حال ان کا استدلال سننِ اربعہ، مسندِ احمد، مسند شافعی، صحیح ابن حبان و ابن خزیمہ، مستدرک حاکم، سنن دارقطنی اور بیہقی کی اس حدیث سے ہے، جس میں مروی ہے: (( إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَیْنِ لَمْ یَحْمِلِ الْخَبَثَ )) [1] ’’اگر پانی دو مٹکے ہو جائے تو وہ پلیدی نہیں اٹھاتا (نجس نہیں ہوتا۔)‘‘ اس سے وہ یوں استدلال کرتے ہیں کہ اگر ان کا جُھوٹا ناپاک ہوتا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو مٹکوں کی تحدید نہ فرماتے۔ قول اوّل کے دلائل کے طور پر ذکر کی گئی احادیث کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حوضوں کے پانی کو اس لیے پاک قرار دیا ہے کہ وہ زیادہ مقدار میں تھا۔ ان دونوں اقوال اور خصوصاً قولِ اوّل کے دلائل آپ کے سامنے ہیں، جب کہ حضرت عبداللہ بن عُمر رضی اللہ عنہما اور اما م حسن بصری، ابن سیرین، شعبی، اوزاعی، حماد اور اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ گدھے کے جُھوٹے کو ناپاک نہیں سمجھتے تھے، البتہ اسے مکروہ قرار دیتے تھے۔ [2] امام ابن قدامہ رحمہ اللہ معروف حنبلی ہیں، مگر ان کے اجتہاد اور اتباعِ سنت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے ’’المغني‘‘ میں اپنے امام کی دو روایتیں نقل کرنے کے باوجود لکھا ہے: (( وَالصَّحِیْحُ عِنْدِیْ: طَہَارَۃُ الْبَغْلِ وَالْحِمَارِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَانَ یَرْکَبُہُمَا، وَتُرْکَبُ فِيْ زَمَنِہٖ، وَفِيْ عَصْرِ الصَّحَابَۃِ فَلَوْ کَانَ نَجِساً لَبَیَّنَ النَّبِيُّ ﷺ [1] الفتح الرباني (۱/ ۲۱۶) صحیح سنن أبي داود، رقم الحدیث (۵۸) صحیح سنن الترمذي، رقم الحدیث (۵۷) صحیح سنن النسائي، رقم الحدیث (۵۱) سنن ابن ماجـہ، رقم الحدیث (۵۱۷) الموارد، رقم الحدیث (۱۱۷) المنتقی مع النیل (۱/ ۲۰) [2] تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے: المغني (۱/ ۶۶/ ۶۹)