کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 123
حیوانات اور پرندوں کا جُھوٹا بنی آدم میں سے مُسلم و غیر مُسلم اور غیر مسلموں میں اہلِ کتاب یہُود و نصاریٰ اور غیر اہلِ کتاب کفّار و مُشرکین کے جُھوٹے کے بارے میں تین اقوال، ان کے دلائل اور جائزہ، پھر کفّار و مسلمین کے باہمی تعلّقات کے اس موضو ع کے آخر میں اب آئیے دیکھیں کہ حیوانوں اور پرندوں کے جُھوٹے کا کیا حکم ہے؟ اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ حیوانات اور پرندے دو قِسموں کے ہوتے ہیں: 1۔ ایک وُہ جو ماکول اللحم ہیں کہ جن کا گوشت حلال اور کھایا جاتا ہے۔ مثلاً بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ وغیرہ اور پرندوں میں سے چڑیا، کبوتر اور مرغی وغیرہ۔ ب۔ دوسرے وہ جن کا گوشت نہیں کھایا جاتا، جیسے گدھا، خچر اور چیل وغیرہ۔ 1۔حلال جانوروں کا جُھوٹا: ان میں سے پہلی قِسم کے جو جانور اور پرندے ہیں، ان کا جھوٹا تو تمام ائمہ و فقہا کے نزدیک بالاتفاق پاک و طاہر اور مطہِّر ہے اور ان کے جُھوٹے سے غسل و وضو کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ امام ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’أَجْمَعَ أَہْلُ الْعِلْمِ عَلَیٰ أَنَّ سُؤْرََ مَا یُؤْکَلُ لَحْمُہٗ یَجُوْزُ شُرْبُہٗ وَالْوُضُوْئُ بِہٖ‘‘ [1] ’’اہلِ علم کا اس پر اجماع ہے کہ جن (جانوروں اور پرندوں) کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کا جُھوٹا پاک ہے، جسے پیا جا سکتا ہے اور اُس سے وضو بھی کیا جا سکتا ہے۔‘‘ امام ابنِ حزم رحمہ اللہ ’’المحلّٰی‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’کُلُّ مَا یُؤْکَلُ لَحْمُہٗ فَلاَ خِلاَفَ فِيْ أَنَّہٗ طَاہِرٌ‘‘ [1] بحوالہ المغني لابنِ قدامۃ (۱/ ۷۰)