کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 117
کے لیے مانی جاتی ہیں، جبکہ غیر اللہ کے نام کی نذر ماننا شرک ہے۔ قبروں کا طواف کیا جاتا ہے، مزاروں پر جانور ذبح کیے جاتے ہیں، قسمیں انہی کی کھائی جاتی ہیں اور مشکل کے وقت فریاد انہی سے کی جاتی ہے، جبکہ یہ تمام شرکیہ اُمور ہیں۔ [1] جہاں شرک آگیا، وہاں سے توحید کی دولت اُٹھ گئی اور جو گوہرِ توحید سے تہی دست ہوگیا، وہ سمجھ لے کہ اس کا سبھی کچھ لُٹ گیا۔ 3۔بے پردگی اورمَرد وزَن میں اختلاط: اس خالِص دینی پہلو کی مختصر روئیداد کے بعد اب دیگر شعبوں پر بھی سرسری نظر ڈال لیں۔ کفّار نے اپنے تعلیمی، تجارتی اور حکومتی اداروں میں مَردوزن کے بے حجاب اختلاط اور میل جول کو رواج دیا، جو اب ہمارے یہاں بھی ہے۔ انھوں نے کو ایجوکیشن یا مخلوط تعلیم شُروع کی، ہم نے بھی کر دی، ان کی عورتوں سے بے پردگی مسلمان عورتوں میں بھی آچکی ہے۔ یہُودی اور دیگر غیر مسلم عورتیں پتلونیں اور شرٹیں پہن کر بے پَردہ بازار میں نکلتی ہیں۔ یہ عادت حوّا کی مسلمان بیٹی میں بھی آگئی ہے۔ وہ مِنی سکرٹ پہنتی ہیں تو یہ اب یہاں بھی مقبول ہو رہی ہے۔ ہندو مرد اپنے انداز کا تہمد باندھتے آرہے ہیں، جس کا نچلا درمیانی حصہ پکڑ کر وہ لوگ اسے اِزار بند کی جگہ سے باندھ دیتے ہیں۔ اب اسی سے مِلتی جلتی شلوار قمیص (دھوتی کُرتی)مسلم عورتوں میں بھی رواج پارہی ہے۔ الغرض فیشن یا نقّالی کی بھی کوئی حد ہے کہ اب اگر آپ کسی کو ذاتی طور پر جانتے نہیں ہیں تو مسلم و غیر مسلم کا فرق نہیں کرسکیں گے۔ 4۔کھانا کھانے کا حیوانی انداز: مغرب کے یہُود و نصاریٰ نے ٹیبلوں کے گِرد گھُومتے پھرتے اور کھڑے کھڑے کھانا کھانے کا حیوانی انداز اپنایا، جسے بفے سِسٹم کہا جاتا ہے، حالانکہ اسے بفیلو سِسٹم کہا جانا چاہیے تھا۔ مغرب کے ذہنی غلاموں نے اپنے یَورپی آقاؤں کے اس ’’دین‘‘ کو بھی بہ صد احسان قبول کیا ہوا ہے!! [1] ان امور کی تفصیلات بادلائل ہم اپنی کتاب ’’قبولیتِ عمل کی شرائط‘‘ کے ضمن میں ذکر کر چکے ہیں۔ اور یہ کتاب پاکستان اور اب ہندوستان میںبھی چَھپ چکی ہے۔ وَلِلّٰہ ِالْحَمْدُ عَلَیٰ ذَلِکَ۔