کتاب: طہارت کے احکام ومسائل - صفحہ 103
’’اے ایمان والو! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دِلی دوست مت بناؤ کہ تم ان کو دوستی کے پیغام بھیجو، حالانکہ تمھارے پاس جو دین آچکا ہے، وہ اس کے منکر ہیں۔‘‘ [1] آپ ذرا اس ارشادِ الٰہی پر غور کریں، آپ کا ذہن تسلیم کرے گا اور خود ہی کہہ اُٹھے گا کہ واقعی کوئی بھی معقول شخص کسی ایسے انسان کو دِلی دوست نہیں بنا سکتا اور نہ اس کے ساتھ محبت کی پِینگیں بڑھا سکتا ہے، جو اس کے اپنے دینِ حق کا منکر ہو، مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ایسے منکرینِ دینِ حق کے ساتھ بھی کلّی طور پر ترکِ تعلقات کا حکم نہیں دیا، بلکہ اسی سورۃ الممتحنہ (آیت: ۸) میں اس کے ساتھ احسان و انصاف اور ہمدردی و رواداری کے سلوک کا حکم فرمایا، بشرطیکہ وہ حربی غیر مسلم نہ ہو، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: {لاَیَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْا اِِلَیْھِمْ اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ} ’’اللہ تمھیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو، جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمھیں گھروں سے نہیں نکالا۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ اس سے اگلی آیت (۹) میں اہلِ حرب کفّار سے موالات کے ساتھ ساتھ مواسات (احسان و ہمدردی کے سلوک) سے بھی منع کرتے ہوئے فرمایا: [1] یہاں ترکِ موالات کی وجہ دینِ حق کا انکار بتایا ہے اور ساتھ ہی ان کے حربی ہونے کا بھی ذکر فرما دیا ہے، جیسا کہ اس آیت کے بقیہ کلمات سے معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: {یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِِیَّاکُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ رَبِّکُمْ اِِنْ کُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِھَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَابْتِغَآئَ مَرْضَاتِیْ تُسِرُّوْنَ اِِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَآ اَخْفَیْتُمْ وَمَآ اَعْلَنتُمْ وَمَنْ یَّفْعَلْہُ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآئَ السَّبِیْلِ} [الممتحنۃ: ۱] (وہ تو ایسے ظالم ہیں کہ) رسول کو اور تمھیں صرف اتنی سی بات پر کہ تم اپنے مالک اﷲ پر ایمان لائے ہو، مکہ سے نکال باہر۔۔۔ کرتے ہیں، اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلے ہو اور میری خوشی و رضا چاہتے ہو (تو ان سے ہرگز دوستی نہ رکھو) تم چپکے چپکے ان سے دوستی رکھتے ہو (اور یہ نہیں جانتے کہ) میں تمھاری پوشیدہ اور کھلی باتوں سے خوب آگاہ ہوں اور تم سے جو کوئی ایسا کرے گا (کافروں سے دلی دوستی رکھے گا) وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘