کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 899
دوسری روایت میں ہے: ’’ جسے کوئی عطیہ دیا جائے اسے چاہیے کہ اگر ہو سکے تو بدلہ اتار دے اگر نہ ہو سکے تو اس کی ثنا بیان کرے جس نے ثنا کی وہ شکر گزار ہوا، اور جس نے نعمت کا اظہار نہ کیا اس نے ناشکری کی۔‘‘[1] ایک جگہ ہے: (مَنْ لَا یَشْکُرِ النَّاسَ لَا یَشکُرِ اللّٰہَ) ’’جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہ کیا اس نے اللہ کا بھی نہ کیا۔‘‘[2] بندہ رب کے سب سے زیادہ قریب کب ہوتا ہے؟ سوال : بندہ رب کے سب سے زیادہ قریب کب ہوتا ہے؟ جواب : سجدے میں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے بہت ہی قریب ہوتا ہے۔ پس تم بکثرت سجدوں میں دعائیں کرتے رہو۔[3] لیلۃ القدر کا تعین سوال : لیلۃ القدر کونسی رات ہے؟ جواب : مسند احمد میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ، لیلۃ القدر آخری دس راتوں میں ہے جو ان کا قیام طلب ثواب کی نیت سے کرے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیتا ہے یہ رات اکائی کی ہے یعنی ۲۱ویں ، ۲۳ویں ، ۲۵ ویں ، ۲۷ ویں ۲۹ ویں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے یہ بالکل صاف اور ایسی روشن ہوتی ہے جیسے چاند چڑھا ہوا ہو، اس میں سکون اور دلجمعی ہوتی ہے نہ سردی ہوتی ہے نہ گرمی صبح تک ستارے جھڑتے نہیں ایک نشانی اس کی یہ بھی ہے کہ اس کی صبح کو سورج تیز شعاعوں کے ساتھ نہیں نکلتا بلکہ وہ چودھویں رات کی طرح صاف نکلتا ہے شیطان بھی اس دن اس کے ساتھ نہیں نکلتا۔[4] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لیلۃ القدر کون سے دن آئی؟ سوال : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کون سی رات لیلۃ القدر کی ہوئی تھی؟ جواب : ۲۱ویں [5] یہ چونکہ بدلتی رہتی ہے لہٰذا اسے ہم متعین نہیں کر سکتے۔ [1] ابوداود: ۴۸۱۴ حسن بشواہد۔ [2] ترمذی: ۱۹۵۴، صحیح۔ [3] صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود۔ [4] مسند احمد: ۵/ ۳۲۴۔ حسن بشواہد، ابن کثیر: ۵/ ۷۰۴۔ [5] بخاری: ۲۰۱۸۔