کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 866
جواب : مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں : اگر اپنی ذات سے یا کسی دوسرے سے ظلم کو رفع کرنا مقصود ہو تو اس وقت شرعاً حیلہ کرنا جائز ہے اور اس کی دلیل ایک تو یہی آیت ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ نے سیّدنا یوسف علیہ السلام کو خود ایسی تدبیر بتائی تھی کہ جس سے ان کا چھوٹا بھائی بنیا مین اپنے سوتیلے بھائیوں کے ظلم وستم سے محفوظ رہے۔ تیسرے درج ذیل حدیث بھی اس کی وضاحت کرتی ہے: سعید بن سعید بن عباد فرماتے ہیں کہ سعد (ان کے باپ) ایک ناقص الخلقت بیمار شخص کو پکڑ کر آپ کے پاس لائے کہ وہ محلہ کی لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ زنا کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور کی ایک بڑی ٹہنی پکڑ کر جس میں سو چھوٹی ٹہنیاں ہوں ایک مرتبہ اس کو مارو۔ [1] اور یہ حیلہ آپ نے اس لیے اختیار کیا کہ وہ سو درے کھانے کی تاب نہ رکھتا تھا اور اس صورت میں اس کا مر جانا یقینی تھا۔[2] البتہ کسی فریضے مثلاً زکوٰۃ وغیرہ سے بچنے کے لیے ناجائز حیلے کرنا یہ شرعاً درست نہیں ، اس سے احتراز کرنا چاہیے۔ جس طرح کہ کتب احادیث میں کتاب الزکوٰۃ میں اس بارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح ارشادات مروی ہیں ۔ مشرکین کس بنیا دپر غیر اللہ کو پکارتے تھے؟ سوال : مشرکین کس بنیاد پر غیر اللہ کو پکارتے ہیں ؟ جواب : ان کی بنیاد یا دلیل فقط یہ ہوتی ہے کہ: ﴿مَا نَعْبُدُہُمْ اِِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِِلَی اللّٰہِ زُلْفَی﴾ (الزمر: ۳) ’’ہم تو انہیں صرف اس لیے پکارتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں ۔‘‘ یہ دور نبوی کے مشرکوں کا جواب تھا اور آج بھی مُردوں کو پوجنے والے بالکل اسی قسم کے جوابات دیتے ہیں ۔ ذکر اللہ کے دوران حال پڑ جانا سوال : قرآن سن کر یا اللہ کے ذکر کے دوران جو بعض لوگوں کو حال پڑ جاتا ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ جواب : قرآن سے اثر لینے والے اگر کوئی حقیقی نفوس تھے تو وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے ذکر اللہ کے موقع پر اللہ عزوجل ان کی کیفیت بارے آگاہ کرتے ہیں : ’’اللہ نے بہترین کلام نازل کیا جو ایسی کتاب ہے جس کے مضامین ملتے جلتے ہیں اور بار بار دھرائے جاتے ہیں ۔‘‘ [1] شرح السنۃ بحوالہ مشکوٰۃ۔ [2] تیسیر القرآن: ۳/ ۷۴۰۔