کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 822
جواب : برقع ایسا لباس ہے جو چہرے کی مقدار کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔ دیکھنے کے لیے آنکھوں کے سامنے سوراخ رکھے جاتے ہیں ، ایسا لباس پہننا جائز ہے حالت احرام کے علاوہ اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ (لَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَۃُ) ’’عورت (دوران احرام) نقاب نہ اوڑھے۔‘‘[1] نقاب برقع سے عبارت ہے یہ اس امر کی دلیل ہے کہ برقع احرام کے علاوہ جائز ہے لیکن سوراخ اس قدر نہ ہوں کہ چہرے کا کوئی حصہ مثلاً ابرو یا رخساروں کا کچھ حصہ یا ناک ظاہر ہو کیونکہ اس طرح وہ ناظرین کے لیے باعث فتنہ بن سکتی ہے اگر عورت برقعہ کے اوپر ایک باریک سا دوپٹہ اوڑھ لے جو دیکھنے میں رکاوٹ نہ بنے اور چہرے کے خدوخال چھپا سکے تو زیادہ موزوں ہوگا۔[2] پردے کے مخالف ماں باپ کا حکم سوال : عورت کے باپ کو پتہ لگا کہ یہ مردوں سے پردہ کرتی ہے تو وہ اس سے قطع تعلقی کر لیتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ جواب : اگر ایسا ہوا ہے تو والد کا اس سے قطع تعلقی کرنے کا اسے کوئی نقصان نہیں بلکہ باپ کے لیے ایسا کرنا جائز ہی نہیں ہے کیونکہ اس کا اللہ کی اطاعت پر مبنی ہے جبکہ ترک حجاب معصیت ہے اور خالق کی معصیت میں مخلوق کی بات نہیں مانی جاتی اور یہ شخص اپنی کارگزاری میں گناہ گار ہے اللہ اسے ہدایت دے۔[3] وباللہ التوفیق وصلی اللہ کل نبینا محمد واٰلہ وصحبہ وسلم۔ سوال : جب ایک لڑکی نقاب اوڑھنے کا ارادہ کرتی ہے اس نے پڑھا ہے کہ یہ فرض ہے لیکن اس کے ماں باپ انکار کر دیتے ہیں اور اسے کہتے ہیں ان کی اطاعت نقاب سے بڑھ کر فرض ہے تو کیا یہ حق ہے؟ اور کیا اس کا معنی ہے کہ ہم اسے چھوڑ دیں ؟ اور یہ کیونکر ممکن ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (مَنْ رَغِبَ عَن سُنَّتِی فَلَیْس مِنِّی) ’’جس نے میری سنت سے اعراض کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ‘‘ اگر یہ فرض ہے تو میں کیسے اسے اوڑھوں جبکہ میرا باپ مجھے دھمکی دیتا ہے اگر میں نے یہ نقاب لیا تو وہ لوگوں کے سامنے اسے نوچ پھینکے گا کیونکہ یہ نقاب میرے مردوں بھائیوں کوشبہے میں ڈالے گا؟ جواب : والدین کی اطاعت واجب مگر نیکی کے کاموں میں بہرحال جب وہ نافرمانی کا کہیں تو پھر [1] صحیح بخاری: ۱۸۳۸۔ ابوداود: ۱۸۲۵۔ واللفظ لہ۔ [2] شیخ ابن جبرین، ایضاً ص ۴۰۲۔ ۴۰۳۔ [3] اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلمیۃ والافتاء، السوائل الساس من الفتوی رقم: ۵۹۵۳۔