کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 799
جس نے تعزیت کرنی ہو وہ ادھر آئے اور تعزیت کر کے چلتا بنے۔ ٭ میت کے ورثہ کے لیے یہ ناجائز ہے کہ وہ تعزیت کا کوئی لباس مقرر کر لیں مثلاً سیاہ وغیرہ کیونکہ اس میں اللہ کی قضا وقدر پر ناراضی کا اظہار ہوتا ہے۔ ٭ ایسے کافروں سے بھی تعزیت جائز ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی کا اظہار نہیں کرتے لیکن ان کے مرنے والے کے لیے دعا نہ ہو۔ ٭ سنت ہے کہ اہل میت کے لیے کھانا تیار کر کے ان کی طرف بھیجا جائے نیز اہل میت کے لیے ناجائز ہے کہ وہ لوگوں کے لیے کھانا تیار کریں اور لوگ اسے کھانے کے لیے اکٹھے ہوں ۔ میت پر رونے کا حکم میت پر رونا جائز ہے اگر اس کے ساتھ نوحہ اور چیخ وپکار نہ ہو۔ کپڑے پھاڑنا، رخسار پیٹنا، آواز بلند کرنا وغیرہ حرام ہے۔ نیز میت کو اس کی قبر میں عذاب دیا جاتا ہے یعنی وہ تکلیف وپریشانی محسوس کرتی ہے جب اس کی وصیت کی وجہ سے اس پر نوحہ کیا جا رہا ہو۔ سیّدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے بلا شبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن آل جعفر کو مہلت دئیے رکھی کہ ان کے پاس جائیں پھر وہ ان کے پاس آئے تو کہنے لگے آج کے بعد میرے بھائی پر رونا نہیں ، پھر کہتے ہیں : میرے بھتیجوں کو بلاؤ ہمیں لایا گیا ہم چوزوں جیسے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سر مونڈنے والے کو بلاؤ تو آپ نے اسے حکم دیا نتیجتاً اس نے ہمارے سر مونڈ دئیے۔[1] سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرنے والے کو اس کی قبر میں اس پر کیے جانے والے نوحے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے۔[2] کیا موت آنے سے بیوی خاوند پر حرام ہو جاتی ہے؟ سوال : ہم نے عوام الناس سے اکثر یہ سنا ہے کہ وفات کے بعد بیوی خاوند پر حرام ہو جاتی ہے لہٰذا بیوی کی وفات کے بعد خاوند نہ تو بیوی کو دیکھ سکتا ہے اور نہ اسے لحد میں اتار سکتا ہے کیا یہ صحیح ہے؟ جواب : شرعی دلائل سے ثابت ہے کہ بیوی خاوند کی لاش کو غسل دے سکتی ہے اسی طرح خاوند بھی بیوی کی لاش کو غسل دے سکتا ہے اور اسے دیکھ سکتا ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ((مَاضَرَّکِ لَومُتِّ قَبْلِی فَقُمْتُ عَلَیکِ فَغَسَّلْتُکِ وَ کَفَّنْتُکِ وَصَلَّیْتُ عَلَیکِ [1] اخرجہ ابوداود، والنسائی صحیح۔ [2] متفق علیہ۔ دیکھئے: مختصر الفقہ الاسلامی: ص ۵۷۱ تا ۵۸۷۔